حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
حکمتِ قرآن قرآن ۲۳ سال میں نجا نجاً (تدریجی طور پر) اترا۔ اس اسلوب نزول کی حکمت بتاتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوا ہے : ولا تعجل بالقرآن من قبل أن يقضى إليك وحيه وقل رب زدنی علما (ط ۱۳۴) اور تم قرآن کے لینے میں جلدی نہ کرو جب تک اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے اور کہو کہ اے میرے رب ، میرا علم زیادہ کر دے۔ مکہ میں قرآن کے ذریعہ جو دعوتھی مہم چل رہی تھی، اس میں بار بار لوگوں کی طرف سے نئے نئے سوالات اٹھائے جاتے تھے۔ اور ان مسائل کا حل دریافت کیا جاتا تھا جن کی بابت قرآن میں ابھی کچھ نہیں اترا تھا۔ مثلاً مشرکین کی زیادتیوں کے بارہ میں قرآن میں یہ حکم اترا تھا کہ ان پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کرو۔ اب ان کا شکار ہونے والے مسلمان یہ کہتے تھے کہ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم ان سے لڑا کر اس کا خاتمہ کریں۔ ایسی حالت میں مخلص اہل ایمان فطری طور پر یہ چاہتے تھے کہ قرآن کا وقفۂ نزول کم ہو تا کہ بقیہ معاملات میں بھی جلد از جلد خدا کی رہنمائی مل جائے۔ جزئی احکام والے قرآن کے بجائے مکمل احکام والا قرآن ہمیں حاصل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قرآن جس ترتیب و تدرج سے اتر رہا ہے وہ اتفاقی نہیں ہے بلکہ وہ خدا کا طے شدہ منصوبہ ہے۔ قرآن اسی طرح اسی اسلوب میں اترتا رہے گا یہاں تک کہ فطری طور پر وہ اپنی تکمیل تک پہنچ جائے۔ اہل ایمان کو اس سے روکا گیا کہ وہ مستقبل میں اترنے والے قرآن (یا احکام قرآن) کو حال میں اتارنے کے خواہش مند ہوں۔ اس کے بجائے تمہیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تمہارے فہم قرآن میں اضافہ کر دے۔ قرآن کی اگلی آیتوں کے بارہ میں تعجیل کے بجائے تمہیں اس حکمت کو جاننے کی کوشش کرنا چاہیے کہ قرآنی احکام کے نزول میں تدرج کیوں رکھی گئی ہے۔ مصلح کے لیے جائز نہیں کہ وہ جلد باز بنے۔ دعوت کے حالات میں لوگوں کو جہاد پر اکسانا ، تعبیر فکر کے دور میں اجتماعی اقدام کا حکم سنانا، جن مواقع پر صبر و اعراض مطلوب ہے وہاں قتال کی آیتوں کے حوالے دینا، یہ سب اسی کے ذیل میں داخل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader