Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

اصلاحی مداخلت

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اصلاحی مداخلت قرآن کی اٹھارویں سورہ میں موسیٰ اور خضر کا قصہ بیان ہوا ہے۔ خضر غالباً کوئی فرشتہ تھے جو حضرت موسیٰ کی تعلیم کے لیے انسان کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ دونوں نے غالباً مصر اور سوڈان کے درمیانی علاقہ میں ایک لمبا سفر کیا۔ اس سفر کے دوران حضرت خضر نے تین خاص واقعات کیے۔ ان میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ دونوں ایک کشتی میں سووار ہوئے۔ راستہ میں خضر نے اس کشتی کو پھاڑ دیا (الکہف ۷۱)، حضرت موسیٰ نے متجب ہو کر اس کا سبب پوچھا تو حضرت خضر نے جواب دیا، کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند مسکینوں کی تھی جو دریا میں محنت کرتے تھے۔ تو میں نے چاہا کہ اس کو عیب دار کردوں۔ اور ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین کر لیتا تھا (الکہف ۱۹) اس واقعہ کی مختلف تفصیلات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ غریب آدمی پانی میں کشتی چلانے کا پیشہ کرتے تھے۔ یہی ان کی معاش کا ذریعہ تھا۔ جس علاقہ میں وہ کشتی چلاتے تھے، وہاں کے بادشاہ کو کوئی جنگی مہم پیش آگئی۔ اس نے حکم جاری کر دیا کہ ہنگامی ضرورت کے تحت اس علاقے میں چلنے والی تمام اچھی کشتیوں کو ضبط کر لیا جائے۔ حضرت خضر کو اس کا علم تھا۔ انھوں نے یہ کیا کہ کشتی جب مذکورہ علاقہ کے قریب پہنچی تو انہوں نے اس کا ایک تختہ نکال کر اس کو عیب دار بنا دیا تاکہ بادشاہ کے کارندے جب اس کشتی کو دیکھیں تو اس کو ناقص سمجھ کر چھوڑ دیں۔ بعد کو یا تو حضرت خضر نے یا خود کشتی کے مالکوں نے کشتی کو مرمت کرکے اس کو درست کر لیا۔ اس واقعہ سے نظام قدرت کا ایک پہلو معلوم ہوتا ہے۔ دنیا میں انسان کو اگر چہ آزادی دی گئی ہے۔ مگر خدا کے حکم سے خدا کے فرشتے برابر اس کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ جہاں وہ دیکھتے ہیں کہ مقاصد تخلیق فوت ہو رہے ہیں وہاں وہ مداخلت کر کے معاملات کو از سر نو صحیح رخ پر لگا دیتے ہیں۔ تاہم یہ پورا کام اسباب کے پردہ میں انجام دیا جاتا ہے تاکہ امتحان کا ماحول باقی رہے ۔ جو لوگ اس راز کو نہیں سمجھتے وہ اس کو نظام فطرت کا نقص کہنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ اس قسم کے انتہائی واقعات کی اصل حیثیت اصلاحی مداخلت کی ہوتی ہے، وہ نظام فطرت میں کسی خرابی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ دنیا میں انسان کو آزادی دی گئی ہے، مگر اسی کے ساتھ اس کے اوپر خدا کی نگرانی بھی قائم ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page