Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ہم ان کو اچھا ٹھکانا دیں گے

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم ان کو اچھا ٹھکانا دیں گے والذین ہاجروا في اللہ من بعد ما ظلموا اور جنہوں نے ظلم سہنے کے بعد اللہ کے واسطے ہجرت کی لنبوء نهم في الدنیا حسنة ولاجر الاخرة ان کو ہم دنیا میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو اكبر لو كانوا یعلمون - الذین صبروا وعلیٰ بہت بڑا ہے، کاش ان کو معلوم ہوتا۔ جنہوں نے صبر کیا ربهم یتوکلون (نحل ۴۲) اور اپنے رب پر بھروسہ کیا۔ حق کی یہ آمیز دعوت جب بھی اٹھتی ہے تو وہ تمام لوگ اس کے سخت مخالف ہو جاتے ہیں جو ناحق کو حق بنا کر اپنی قیادت قائم کئے ہوئے ہوں۔ ایسی دعوت ان لوگوں کے لئے اپنی حیثیت کی نفی کے معنی بن جاتی ہے، وہ حق کی دعوت کو دبانے اور کچلنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف شوغنے نکال کر اس کو بدنام کرتے ہیں۔ وہ اس کی جڑ اکھاڑنے کے منصوبے بتاتے ہیں۔ وہ عوام کو اس سے رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اس کے خلاف جارحانہ اقدام سے بھی باز نہیں آتے۔ ان مظالم کے مقابلہ میں حق کے داعیوں کے پاس جو سہارا ہوتا ہے وہ صرف صبر اور توکل ہے، یعنی اللہ کی خاطر ہر تکلیف کو برداشت کرنا اور اس امید پر اپنا سفر جاری رکھنا کہ اللہ ضرور ان کی مدد فرمائے گا۔ مخالفین کے پاس مادی اسباب ہوتے ہیں اور ان کے پاس خدا کے وعدے ہوتے ہیں جو اس نے حق کے داعیوں سے اپنی کتاب میں کئے ہیں۔ مخالفین کے پاس دنیوی طاقتیں ہوتی ہیں اور ان کے پاس یہ یقین کہ اللہ کا ایک غیبی نظام ہے اور یہ نظام ضرور ان کی مدد کرے گا۔ حق کے داعیوں کو جب اپنے ابتدائی مقام پر کام کرنا نا ممکن بنا دیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنی طرف سے ایک مَبُوءَ (ٹھکانا) فراہم کرتا ہے۔ یعنی ایک ایسی متبادل جگہ جو ان کے لئے دعوتی مرکز کا کام دے۔ جہاں اپنے قدم جما کر وہ زیادہ موثر انداز میں اپنی دعوتی مہم کو جاری رکھ سکیں۔ ابراہیم علیہ السلام کو مکہ میں یہ مبوءَ دیا گیا (حج ۲۶)۔ یہود کے لئے شام و فلسطین کی زمین کی مبور بنا دیا گیا (یونس ۹۳) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو مدینہ کی صورت میں مبوءَ فراہم کیا گیا (حشر ۹) کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک مہربان باپ اپنی جیب سے پیسہ نکالتا ہے اور اپنے چھوٹے بچے کے ہاتھ میں پکڑا کر کہتا ہے کہ یہ فلاں آدمی کو دے دو۔ ایسا ہی کچھ معاملہ دعوتِ حق کے لئے مبوءَ کی فراہمی کا ہے۔ یہ اگرچہ ایک خدائی عطیہ ہے مگر ظاہری طور پر کچھ انسانوں کے ذریعہ اس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اس عظیم خوش قسمتی کے لئے چنتا ہے کہ اس کو دعوتِ حق کے ساتھ تعاون کرنے والوں میں لکھے تو وہ اس کے دل میں اس کام کی اہمیت ڈال دیتا ہے۔ ہجرت کے بعد مدینہ کے قبائل نے جس طرح باہر کے مسلمانوں کو ٹھکانا دیا اور اپنی جائیدادیں اور مکانات ان کے لئے پیش کر دئے وہ انسانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ یہ عظیم قربانی اس کے بغیر ممکن نہ تھی کہ اللہ تعالیٰ خصوصی طور پر ان کے دلوں کو اس طرف مائل کر دے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page