ایک آیت
Urdu book, p. 86
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک آیت رزین نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خلیفہ ثانی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک روز پانی مانگا ۔ ان کے پاس ایک پیالہ میں پانی لایا گیا جس میں شہد ملا ہوا تھا۔ حضرت عمر نے کہا کہ یہ اچھا ہے۔ مگر مجھے قرآن کی آیت (الاحقاف (۲۰) یاد آتی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں کچھ لوگوں سے کہا جائے گا کہ تم اپنی اچھی چیزیں دنیا میں لے چکے ۔ اب آخرت کی اچھی چیزوں میں تمہارا کوئی حصہ نہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ وہی نہ ہو۔ حضرت عمر نے یہ کہا اور پیالہ سے پیئے بغیر واپس کر دیا۔ (التفسیر المظہری) مذکورہ آیت کے تحت اکثر تفسیروں میں اس طرح کے واقعات درج ہوتے ہیں۔ اس سے بعض لوگوں نے یہ تاثر لے لیا گویا دنیا کی طیبات کو استعمال کرنا مطلق طور پر آخرت کی طیبات سے محرومی کے ہم معنی ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک خاص موقع پر شہد کا شربت نہ پینا محض شدتِ تاثر کی بنا پر تھا۔ وہ شرعی حکم کے طور پر نہ تھا بلکہ تقویٰ کے احساس کے تحت تھا۔ حدیث میں آیا ہے کہ کوئی بندہ اس وقت تک متقی کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک اس کا یہ حال نہ ہو جائے کہ وہ (بعض اوقات) ایسی چیز کو بھی چھوڑ دے جس میں ہرج نہیں ہے، اس اندیشہ کی بنا پر کہ شاید اس میں ہرج ہو (لا يبلغ العبد ان يكون من المتقين حتى يدع ما لا بأس منه حذراً لما به بأس) حضرت عمر کے مذکورہ فعل کو اسی حدیث کے تحت دیکھنا چاہئے۔ یہ واقعہ ان کی بڑھی ہوئی متقیانہ حساسیت کی بنا پر پیش آیا نہ اس لیے کہ دنیا کی اچھی چیزیں اہل ایمان کے لیے قابل ترک ہیں۔ اگر دنیا کی اچھی چیزوں کو مطلقا قابل ترک سمجھا جائے تو یہ نظریہ قرآن کی ان آیتوں سے ٹکرایا جائے گا جن میں طیب اور پاک چیزوں کو مطلق طور پر اہل ایمان کے لیے جائز بتایا گیا ہے۔ حتیٰ کہ ارشاد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader