Urdu book · قیادت نامه

داخلی مسئلہ

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

داخلي مسئلہ قرآن وحدیث میں نہایت واضح طور پر یہ بات بتائی گئی ہے کہ مسلمانوں پر جب بھی کوئی مصیبت آئے گی تو ان کی اپنی داخلی کمزوریوں کی بنا پر آئے گی۔ باہر کی کوئی طاقت انہیں کبھی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر زمانہ میں علماء اسلام نے یہ کیا کہ جب بھی مسلمانوں پر کوئی مصیبت آئی تو انھوں نے خود مسلمانوں کو یہ نصیحت کی کہ تم اپنی اندرونی خرابیوں کی اصلاح کرو، کیوں کہ اپنی اندرونی خرابیوں کی اصلاح کر کے ہی تم بیرونی خطرات سے بچ سکتے ہو۔ ۱۷۳۹ء میں ایرانی حکمران نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا اور دہلی کے مسلمانوں کو لوٹا اور ان کا قتل عام کیا۔ یہ بے حد سخت لمحہ تھا۔ لوگوں نے وقت کے بزرگ حضرت مرزا مظہر جانجاناں سے اس کی شکایت کی۔ انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ نادر شاہ پر ذمہ داری ڈال کر اس کو لعنت ملامت کرنے لگیں۔ اس کے بجائے انھوں نے یہ فرمایا کہ جو کچھ ہورہا ہے یہ ہماری اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ہورہا ہے، اس لیے سب سے زیادہ اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف توجہ کرو۔ یہ دراصل خود ہمارے برے اعمال ہیں جنھوں نے نادر کی صورت اختیار کرلی ہے: شامت اعمال ما صورت نادر گرفت ماہنامہ الفرقان ( جولائی ۱۹۷۰ء) میں مولانا محمد منظور نعمانی کی ایک تقریر شائع ہوئی ہے۔ بارہ صفحات کی یہ تقریر خاص اسی موضوع پر ہے۔ اس میں مولانا موصوف فرماتے ہیں: ” قرآن وحدیث کی روشنی میں یقین ہے کہ آج ہم مسلمانوں پر جو مصیبتیں جہاں بھی آرہی ہیں اور جو مظالم ہورہے ہیں وہ سب ہماری بداعمالیوں اور نافرمانیوں کے نتائج ہیں۔ اسی حقیقت کو قرآن مجید میں ان الفاظ میں بیان فرمایا گیا ہے: وما ظلمناهم ولكن كانوا انفسهم يظلمون ۔ ایک حدیث قدسی کے الفاظ ہیں: انما هي اعمالكم احصيها لكم۔ بدقسمتی سے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جن مشکلات میں مسلمان مبتلا ہیں ان سے نجات پانے کے لیے ان کے ناخداشناس اور دین سے بے بہرہ قائد و رہنما ان قوموں کے طور طریقوں سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں جو ایمان سے محروم ہیں۔ قرآن سے ہدایت اور رہنمائی حاصل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page