Urdu book · قیادت نامه

اردو صحافت اور اخلاقیات

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

عرفان حبیب کا مطبوعہ انٹرویو پڑھوں۔ اس سلسلہ میں میں نے متعدد اردو اخبارات کے ایڈیٹر صاحبان سے معلوم کیا اور انھیں ٹیلی فون کیے۔ مگر نہ تو کسی کے پاس انڈین ایکسپریس کا مطبوعہ پرچہ موجود تھا اور نہ ایسے لوگ ملے جو یہ کہیں کہ انھوں نے مذکورہ انٹرویو پورا کا پورا پڑھا ہے۔ حالاں کہ یہ تمام اخبارات وہ تھے جو پروفیسر عرفان حبیب کے خلاف اور علی گڑھ کے مسلم طلبہ کی حمایت میں پر شور مضامین اور خطوط شائع کر رہے تھے۔ اس موضوع پر اس زمانہ میں تقریباً ہر اردو اخبار نے لکھا تھا۔ مگر کسی ایک اخبار نے بھی ایسا نہیں کیا کہ وہ پروفیسر عرفان حبیب کے متنازعہ انٹرویو کا مکمل ترجمہ چھاپے تاکہ اردو قارئین اصل انٹرویو کو پڑھ کر کوئی رائے قائم کرنے کی پوزیشن میں ہو سکیں۔ ہر ایک صرف اپنا تبصرہ چاپ رہا تھا، متنازعہ انٹرویو کسی نے بھی نہیں چھاپا۔ آخر کار میں اس کی تلاش میں انڈین ایکسپریس کے دفتر گیا۔ وہاں اخبار کی فائل نکلو اکرو پروفیسر عرفان حبیب کا مذکورہ انٹرویو پڑھا۔ اس کی فوٹو کاپی لی۔ اور پھر اس کے بارے میں دو صفحہ کا ایک مضمون لکھا جو ماہنامہ الرسالہ (اگست ۱۹۸۱) میں چھپ چکا ہے۔ میرے اس مضمون کا عنوان تھا ــــــــــــ "آہ یہ بے شعوری"۔ پروفیسر عرفان حبیب کے اس مطبوعہ انٹرویو کو آپ پڑھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جس پر مشتمل ہونے کی ضرورت ہو۔ اس انٹرویو کا خلاصہ یہ ہے کہ علی گڑھ کے طلبہ میں ایک گروہ ایسا پیدا ہوگیا ہے جو تعلیم سے زیادہ ہنگامہ بازی میں دل چسپی رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ عین وہی واقعہ تھا جس کی تصدیق خود ان طلبہ نے انٹرویو کے بعد یونیورسٹی میں اپنے پرتشدد ہنگاموں سے عملی طور پر فراہم کردی۔ ایک مسلمان ایڈیٹر صاحب جنھوں نے اصل انٹرویو کا خلاصہ پڑھا تھا، ان سے میں نے کہا کہ آپ انٹرویو کے خلاف مسلسل مضامین چھاپ رہے ہیں، پھر آپ اصل انٹرویو کو کیوں نہیں چھاپتے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم انٹرویو کو بہ جنسہ چھاپ دیں تو طلبہ کی مہم کمزور پڑ جائے گی۔ کیوں کہ اصل انٹرویو میں کوئی بہت زیادہ متقابل اعتراض بات نہیں۔ گویا معاملہ حق اور ناحق کا نہیں ۔ بلکہ اپنی قوم کی یک طرفہ حمایت کرنے کا ہے۔ اور اپنی قوم کی یہ یک طرفہ حمایت وہ لوگ کر رہے ہیں جو مغربی قومیت کے اس تصور کا مذاق اڑاتے ہیں کہ میری قوم، خواہ وہ حق پر ہو یا ناحق پر:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page