Urdu book · قیادت نامه

تشویہ حقائق

Urdu book, p. 153

By Maulana Wahiduddin Khan

الرائد کے مذکورہ شمارہ میں آخری صفحہ پر " اخبار و تعلیقات " کے تحت ایک مضمون درج ہے۔ اس میں راقم الحروف (وحید الدین خاں) کے ایک مطبوعہ مقالہ (ٹائمس آف انڈیا ۵ستمبر، ۱۹۸۰) کا حوالہ دیتے ہوئے میرے بارے میں ایک "خبر" کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ "انہوں نے اس میں مسلمانوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اکثریتی فرقہ کی نسبت سے شکایت اور ناگواری کا طریقہ چھوڑ دیں اور اپنے مطالبات سے دستبردار ہوجائیں اور حالات کی تبدیلی کا اعتراف کرلیں اور شکست کو قبول کرلیں اور حقیقت حال کا سامنا کریں اور اپنے سیاسی موقف سے ہٹ جائیں اور پچھلی سیٹوں پر بیٹھ جائیں اور نئے حالات کی روشنی میں نئے دور کا آغاز کریں " الرائد کے اصل الفاظ یہ ہیں : نصح فيه المسلمين بأن يتركوا طريق الشكوى، والكراهية بالنسبة للاغلبية ويتنازلوا عن مطالبهم ويعترفوا بتغيير الوضع ، ويقبلوا الهزيمة، ويواجهوا حقائق الوضع، وينسحبوا من موقفهم السياسي، ويقعدوا فى المقاعد الخلفية ويبدؤ عهداً جديداً في ضوء الظروف الجديدة - الرائد کی مذکورہ عبارت تشویہ حقائق کی کھلی ہوئی مثال ہے۔ اس کو پڑھ کر ایک آدمی سمجھے گا کہ راقم الحروف نے مسلمانوں سے یہ کہا ہے کہ وہ نئے حالات کے آگے ہتھیار ڈال دیں اور اکثریتی فرقہ کے مقابلہ میں ہزیمت اور پسپائی کی حیثیت کو قبول کرنے پر راضی ہو جائیں ۔ حالاں کہ ٹائمس آف انڈیا (۵ستمبر، ۱۹۸۰) کے مفصل مقالہ کو پڑھ کر کوئی بھی شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں نے جو بات کہی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے ۔ میں نے تدبیری حکمت کی بات کہی ہے نہ کہ کسی قسم کی انہزامی پوزیشن اختیار کرنے کی ۔ الرائد کی مطبوعہ " خبر " سے بظاہر یہ متبادر ہوتا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے دور استے ہیں ۔ ایک کفاح اور مطالبہ حقوق کا راستہ۔ دوسرا، استسلام اور انہزام کا راستہ۔ اس کے مطابق میرا کہنا یہ ہے کہ مسلمان کفاح اور مطالبہ کا راستہ چھوڑ کر استسلام اور انہزام کا راستہ اختیار کر لیں۔ یہی ان کے لیے موجودہ حالات کا تقاضا ہے ۔ الرائد کی یہ بات یقینی طور پر تشویہ حقائق ہے نہ کہ اصل واقعہ کی ترجمانی ۔ ٹائمس آف انڈیا کے زیر بحث مضمون میں جو بات کہی گئی ، وہ اس کے برعکس یہ تھی کہ مسلمان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page