ام المسلمین
Urdu book, p. 158
By Maulana Wahiduddin Khan
سے رکا ہوا پڑا ہے ۔ "امر المسلمین" کا دوسرا پہلو وہ ہے جو مسلمانوں کے باہمی معاملات سے تعلق رکھتا ہے ۔ موجودہ مسلمانوں میں باہمی اختلاف اپنے آخری درجہ پر پہنچا ہوا ہے ۔ ہر شہر ، ہر محلہ ، ہر ادارہ میں اس کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں مسلم رہنماؤں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات اور نزاعات میں براہ راست دخل دیں اور ہر ممکن تدبیر استعمال کرکے اس کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اس کوشش کا مطلب جلسہ اور تقریر نہیں ہے۔ مسلمانوں کے باہمی نزاعات جلسوں اور تقریروں سے ختم نہیں کیے جاسکتے۔ اس کی شکل صرف ایک ہے ۔ اور وہ اسلام کے اصولِ عدل کے مطابق عملی مداخلت ہے۔ مثلاً انہیں معلوم ہوتا ہے کہ فلاں مقام پر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کے ساتھ غصب اور خیانت کا معاملہ کیا ہے ۔ اب تمام مسلم لیڈر وہاں پہو نچ کر اس غاصب اور خائن کو پکڑیں۔ اس پر ہر قسم کا قولی اور عملی دباؤ ڈال کر اس کو مجبور کریں کہ وہ اپنے غصب اور خیانت سے باز آئے اور حق کو اس کے حق دار کے حوالے کرے ۔ موجودہ زمانہ کے مسلم رہنما من لم يهتم بام المسلمين فليس منهم کا حوالہ دیتے ہیں ، مگر وہ مذکورہ بالا دونوں کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی نہیں کرتے ۔ اس کے برعکس وہ اپنی جھوٹی تقریروں اور سطحی بیانات کے ذریعہ مسلمانوں کی لایعنی قومی مہم میں شریک ہیں۔ یہ صورتِ حال مذکورہ حدیث کے سراسر خلاف ہے ۔ مسلم رہنماؤں نے اگر اپنی موجودہ روش نہ بدلی تو شدید اندیشہ ہے کہ ان کا موجودہ عمل سرکشی اور فساد انگیزی کے خانہ میں لکھا جائے نہ کہ خدا ورسول کے حکم کی بجا آوری کے خانہ میں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader