بابری مسجد کا مسئلہ
Urdu book, p. 186
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک انتباہ میرا یہ مضمون اس سے پہلے انگریزی زبان میں نئی دہلی کے روزنامہ ہندوستان ٹائنس کے شمارہ ۶ جنوری ۱۹۹۱ میں چھپا تھا۔ انگریزی اخبار میں اس کی اشاعت کے بعد ایک مسلم دانشور کا ٹیلیفون ملا۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے اپنے مضمون میں جو تجویز پیش کی ہے، وہ بہت پسندیدہ اور معقول ہے مگر آپ نے اس کو پیش کرنے میں تاخیر کر دی۔ یہ تجویز آپ کو بہت پہلے پیش کرنا چاہیئے تھا۔ مذکورہ مسلم دانشور کے اس تبصرہ پر مجھے سخت تعجب ہوا۔ کیوں کہ عین اسی مضمون میں یہ بتایا گیا ہے کہ ثالثی کی یہ تجویز میں نے ۴ مارچ ۱۹۸۷ کو نئی دہلی کے ایک باضابطہ اجتماع میں پیش کی تھی۔ اس وقت میں نے اس کو زیادہ تفصیل کے ساتھ اس کے تمام ضروری اجزاء کے ساتھ بیان کیا تھا۔ اس میٹنگ میں ہند و اور مسلمان دونوں طرف کے اعلیٰ ذمہ دار اور نمائندے موجود تھے۔ اس واضح حقیقت کے باوجود مذکورہ مسلم دانشور نے ایسی بات کیوں کہی ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈر اور ہمارے دانشور ایک عرصہ سے "خارجی عذر" کی اصطلاح میں سوچنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ وہ ہر ٹھوس بات کے مقابلہ میں ایک خارجی عذر کا حوالہ دے کر اسے رد کر دیتے ہیں۔ یہ مزاج بلاشبہ موجودہ زمانہ میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مزاج کو ختم کرنا انتہائی ضروری ہے ورنہ ہم نہ کسی منصوبہ پر عمل کر سکیں گے اور نہ امکانات کو استعمال کرنے میں کامیاب ہوں گے۔ اس مزاج کی موجودگی میں ہماری بربادی کبھی ختم ہونے والی نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader