Urdu book · قیادت نامه

پیغمبر کا فیصلہ

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر کا فیصلہ بخاری اور مسلم نے حضرت حذیفہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے۔ آپ نے خطبہ دیا اور ہر وہ بات بیان کی جو آپ کے زمانہ سے لے کر قیامت تک ہونے والی تھی ( مشكاة المصابيح ، الجزء الثالث ، صفحه (۱۲۸۰ حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں موجود ہیں جن میں مستقبل کی باتیں نقل کی گئی ہیں۔ انھیں میں سے ایک بات وہ ہے جو ابو داؤد نے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: عَن ثَوبَانَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وسلّم يوشك الأمَمُ أن تَدَاعَى عَلَيكم كَمَا تَدَاعَى الأَكَلَةُ إلى قَصعَتِها ۔ فَقَالَ قَائِلٌ : من قلّة نحن يومئذ ۔ قال بل أنتم يومئذ كثير ۔ ولكنكم غثاء كغثاء السّيل و لينزعنّ اللَّهُ من صدور عدوكم المهابة منكم وليقذفن في قلوبكم الوهن ۔ فقيل وما الوهن يا رَسُولَ اللَّهِ ۔ قَالَ حبُّ الدّنيا وكراهيَةُ المَوتِ ۔ ( جامع الاصول ، ۱۰ / ۷۸ ) حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ زمانہ آنے والا ہے جب کہ قومیں تمہارے اوپر ٹوٹ پڑیں جس طرح کھانے والے کھانے کے پیالے پر ٹوٹتے ہیں۔ ایک شخص نے کہا، کیا اس لیے کہ اس وقت ہم لوگ کم تعداد میں ہوں گے ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ اس وقت تم لوگ بہت زیادہ ہوگے ۔ مگر تم لوگ سیلاب کے جھاگ کی مانند ہوگے ، اللہ تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہاری ہیبت نکال دے گا۔ اور تمہارے دلوں میں کمزوری پیدا کر دے گا۔ کہا گیا کہ اے خدا کے رسول ، کمزوری کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ دنیا کی محبت ، اور موت کو ناپسند کرنا ۔ اس حدیث کے الفاظ پر غور کیجئے اور امت مسلمہ کے موجودہ حالات کو دیکھئے۔ معلوم ہوگا کہ آج امت پر عین وہی زمانہ آگیا ہے جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساڑھے چودہ سو سال پہلے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page