Urdu book · قیادت نامه

ملت کا المیہ

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

جن کو پڑھنے سے زیادہ دادا گیری سے دل چسپی ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ وائس چانسلر اس قسم کے عناصر کے خلاف ضروری کارروائی کرتا ہے تا کہ یونیورسٹی کے فاسد عضو کا آپریشن کر کے اس کے بقیہ جسم کو صحت مند بنا سکے ۔ اب جن افراد پر اس اصلاحی عمل کی زد پڑتی ہے ، وہ " اسلام خطرہ میں " اور " یونیورسٹی کا اقلیتی کردار خطرہ میں " جیسے جذباتی نعرے لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ وہ اپنے ذاتی مسئلہ کو ایک ملی مسئلہ بنا دیتے ہیں ۔ وہ ہنگامہ بازی کا طریقہ اختیار کر کے یونیورسٹی کی تعلیمی فضا کو درہم برہم کر دیتے ہیں ۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ہر بار تمام مسلم قائدین ، خواہ وہ بے ریش قیادت سے تعلق رکھتے ہوں یا باریش قیادت سے ، دوبارہ اسی سبق کو دہرانا شروع کر دیتے ہیں جس کو وہ دوسرے مسلم معاملات میں دہراتے رہے ہیں ۔ وہ وائس چانسلر کو " ایڈ منسٹریشن " کا نمائندہ فرض کر لیتے ہیں اور طلبہ کو " مسلم ملت " کا نمائندہ ۔ اور پھر بلا تحقیق مسلم طلبہ کو معصوم قرار دے کر یک طرفہ طور پر وائس چانسلر کو ملزم ٹھہرانے لگتے ہیں ۔ وہ اپنے الفاظ کے تمام کارتوس اس کے اوپر خالی کر دیتے ہیں ۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا نقصان خود یونیورسٹی کو پہنچا ہے ۔ اس نے مسلم یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو سکتہ طور پر پست کر دیا ہے ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ اب خود اچھے مسلم خاندانوں کے طلبہ کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی " سکنڈ چوائس " بن چکی ہے ۔ یعنی اب وہ مسلم یونیورسٹی میں صرف اس وقت داخلہ لیتے ہیں جب کہ انھیں کسی اور یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملا ہو ۔ حتیٰ کہ وہ مسلم لیڈر جو اخباری بیان میں مسلم یونیورسٹی کے چیمپین بنے ہوئے نظر آتے ہیں ، وہ بھی اپنے بیٹے بیٹیوں کی تعلیم کے لیے مسلم یونیورسٹی کے بجائے دوسری یونیورسٹیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ یہ طریقہ جو ہمارے لیڈروں نے اسلام کے نام پر اختیار کر رکھا ہے ، وہ اسلام تو کیا ہوگا وہ غیر اسلام بھی نہیں ہے ۔ کیوں کہ اسلام خوف خداوندی کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے اور غیر اسلام حقیقت پسندی کی زمین پر ۔ اور مذکورہ بالا روش کا تعلق نہ خوف خدا سے ہے اور نہ حقیقت پسندی سے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page