ملت کا المیہ
Urdu book, p. 23
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک واقعہ ایک لیڈر صاحب سے میری گفتگو ہوئی۔ ان کے لڑکے کے ایک "غیر مسلم" تعلیمی ادارہ میں اعلیٰ سائنسی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے اپنے لڑکوں کو مسلم یونیورسٹی میں کیوں نہیں داخل کیا ، ان کو آپ غیر مسلم ادارہ میں کیوں تعلیم دلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہاں مقابلہ (Competition) کا ماحول ہے ، جبکہ مسلم یونیورسٹی میں مقابلہ کا ماحول نہیں اور آپ جانتے ہیں کہ بڑی ترقی حاصل کرنے کے لیے مقابلہ کا ماحول بے حد ضروری ہے ۔ میں نے کہا کہ مسلم یونیورسٹی کے بارے میں آپ جو بیانات دیتے رہے ہیں اس میں آپ نے مسلسل اس نظریہ کی وکالت کی ہے کہ مسلم یونیورسٹی میں داخلوں کے لیے رعایت (Relaxation) ہونا چاہیے ۔ پھر جب بڑی ترقیاں مقابلہ کے ذریعہ ہوتی ہیں تو آپ مسلم یونیورسٹی میں اس کے خلاف ماحول کیوں بنانا چاہتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ عام مسلم طلبہ کے ساتھ اگر مسلم یونیورسٹی میں رعایت نہ کی جائے تو دوسری کون سی جگہ ہے جہاں وہ اپنے لیے رعایت پا سکیں گے ۔ پھر ان کا انجام کیا ہوگا ۔ میں نے کہا : اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنی اولاد کے لیے تو آپ یہ چاہتے ہیں کہ ان کو ایسے ماحول میں ڈالیں جہاں محنت کا محرک موجود ہوتا کہ وہ زیادہ سے زیادہ محنت کر کے زیادہ سے زیادہ آگے بڑھیں ۔ مگر قوم کے بچوں کے لیے محنت کا محرک ختم کر کے انھیں کاہل بنا دینا چاہتے ہیں تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے تعلیمی طور پر پیچھے ہو جائیں ۔ اپنے بچوں کو آپ تعلیمی ہیرو دیکھنا چاہتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کو تعلیمی ہریشن۔ یہی موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈروں کا حال ہے ۔ وہ اپنی اولاد کے لیے کچھ پسند کرتے ہیں اور ملت کی اولاد کے لیے کچھ ۔ یہی وجہ ہے کہ لیڈر اور ان کے متسلقین کامیابی کی راہ میں آگے بڑھ رہے ہیں ۔ مگر ملت کے حصہ میں اس کے سوا کچھ اور نہ آیا کہ وہ جلسوں کی بھیڑ کے ذریعہ لیڈروں کی شان قیادت میں اضافہ کریں اور اس کے بعد بربادی کا نشان بن کر رہ جائیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader