Urdu book · قیادت نامه

چند مثالیں

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاد میں کو د پڑیئے ۔ اب ان کا لہجہ بدل گیا ۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلار ہا ہوں تاکہ وہ ڈاکٹر اور انجینئر بن کر قوم کی خدمت کریں۔ کیا یہ جہاد نہیں ۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ مسلمان لیڈروں کے فسادات سے محفوظ رہنے کا ایک راز یہ ہے کہ وہ قوم کے بچوں کے سامنے پر جوش تقریریں کر کے انھیں لڑائی کے میدان میں بھیج رہے ہیں اور خود اپنے بچوں کو اس قسم کے جھگڑوں سے دور رکھ کر تعلیم کے میدان میں مصروف کیے ہوئے ہیں۔ اب عام مسلمانوں کو بھی یہی کرنا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو پرامن "جہاد" کے میدان میں لگا دیں۔ اس کے بعد وہ بھی اسی طرح فسادات کی زد سے محفوظ رہیں گے جس طرح ان کے لیڈر اور لیڈر صاحبان کے بیٹے بیٹیاں محفوظ ہیں ۔ ہمارے تمام لیڈروں کا حال یہ ہے کہ وہ عمل کے بز دل ہیں اور الفاظ کے بہادر ۔ اس پالیسی سے ان کو یہ زبر دست فائدہ ہو رہا ہے کہ "قتل عام" کے ماحول میں بھی وہ اور ان کے گھر والے قتل ہونے سے پوری طرح بچے ہوئے ہیں۔ پھر کیوں نہ عام مسلمان بھی اسی پالیسی کو اختیار کر لیں۔ ایسا کر کے وہ صرف اپنے لیڈروں کی پیروی کریں گے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ ۲۔ اس سلسلے میں ایک بے حد سبق آموز مثال وہ ہے جو راقم الحروف نے اپنی کتاب (حل یہاں ہے) میں درج کی ہے۔ یہ مثال تفصیلی صورت میں کتاب کے صفحہ ۲۲-۲۵ پر دیکھی جاسکتی ہے ۔ مسلم لیڈر صاحبان کی ایک جماعت ۱۹۶۶ء کے درمیان بڑے جوش و خروش کے ساتھ اٹھی۔ اس تحریک کا مرکز شمالی ہند تھا۔ انھوں نے مسلم مسائل کے حل کا وہ نسخہ پیش کیا جس کو اقبال نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے : زمانہ با تو نہ سازد تو با زمانہ ستیز انھوں نے کہا کہ ہمیں لڑ کر اپنا حق وصول کرنا ہے۔ اس "لڑائی" کا پہلا میدان ملکی انتخاب قرار پایا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں کانگریس (بالفاظِ دیگر ہند و قیادت) کو انتخابی میدان میں شکست دینا ہے۔ ہم جب اس طرح اپنی قوت کا مظاہرہ کریں گے تو تمام لیڈر سہم جائیں گے اور اپنے آپ کو امکانی سیاسی نقصان سے بچانے کے لیے ہمارے تمام مسائل حل کر دیں گے ۔ ۱۹۶۷ء کے الیکشن میں ضر ر رسانی کے اس نسخہ کا تجربہ کیا گیا مگر یہ نسخہ مسلمانوں کے لیے ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page