چند مثالیں
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
دلاتے ہیں کہ وہ آگ کے سمندر میں کود پڑیں ۔ مگر خود اپنے بچوں کو لے کر دور ساحل پر کھڑے رہتے ہیں ۔ یہی سادہ سا راز ہے جس نے ان لیڈروں کو فسادات کی تباہی سے بچا رکھا ہے اب مسلمانوں کو بھی یہی کرنا چاہیے کہ وہ لیڈر کے الفاظ کو الفاظ سے زیادہ اہمیت نہ دیں۔ وہ خود بھی وہی کریں جو لیڈر لوگ کرتے ہیں ، وہ ہرگز وہ نہ کریں جو لیڈر لوگ کہتے ہیں، اور اس کے بعد وہ ہر تباہی سے مکمل طور پر محفوظار رہیں گے۔ ۴- ایک مقامی مسلمان لیڈر ہیں۔ پہلے وہ اپنے محلہ میں بالکل بے مہابا طریقہ سے رہتے تھے۔ کسی کی بات انھیں برداشت نہیں ہوتی تھی۔ وہ بات بات میں دوسروں سے لڑنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ اس کے بعد ان کی شادی ہوئی ۔ جلد جلد تین بچے پیدا ہوگئے۔ یہ بچے کچھ بڑے ہونے تو گھر کے باہر محلہ میں چلنے پھرنے اور کھیلنے لگے۔ اب لیڈر صاحب کے اندر ایک نیا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے سوچا کہ میں اکثر گھر سے باہر رہتا ہوں۔ گھر میں کوئی دوسرا مرد نہیں ہے۔ میرے بچے اکثر کھیلنے کے لیے یا کسی کام کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ اگر میں پہلے کی طرح محلہ والوں سے لڑائی جاری رکھوں تو اس کا خمیازہ میرے بچوں کو بھگتنا پڑے گا۔ جس شخص کو بھی مجھ سے شکایت پیدا ہوگی وہ اس کا انتقام میرے چھوٹے بچوں سے لے گا۔ اس سوچ کا آنا تھا کہ لیڈر صاحب بالکل بدل گئے جس محلہ میں پہلے وہ لڑا بھڑ کر رہنے کا نظریہ اپنائے ہوئے تھے وہاں اب وہ میٹھے بول بول کر اور مل جل کر رہنے کے نظریہ پر عمل کرنے لگے۔ ان کی اس تبدیلی کو دیکھ کر ایک شخص نے پوچھا : جناب اب تو آپ بالکل بدل گئے ۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آپ وہی شخص ہیں جو پہلے تھے ۔ لیڈر صاحب نے مسکرا کر جواب دیا : بھائی، میرے بچوں نے مجھ کو بزدل بنا دیا۔ ہمارے تمام لیڈر قوم کے بچوں کو بہادری کا سبق دیتے ہیں۔ مگر خود اپنے بچوں کے لیے وہ بزدل بنے ہوئے ہیں۔ زندگی کا یہی وہ راز ہے جس نے تمام لیڈروں کو ذاتی نقصان سے بچا رکھا ہے۔ اب قوم کو چاہیے کہ وہ لیڈروں کی پرجوش تقریروں پر دھیان نہ دے۔ وہ خود بھی "بزدلی" کے اسی نسخہ کو اپنا لے جس کو اپنا کر ہمارے تمام لیڈر ترقی اور کامیابی کے منازل طے کر رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader