دو تصویریں
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
معاملہ میں وہ عین اسی طریقہ کو اختیار کئے ہوئے ہیں جس کی نشان دہی الرسالہ میں تقریبا پندرہ سال سے کی جارہی ہے۔ یعنی حقیقت پسندانداز میں سوچنا اور حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے معاملات کو درست کرنا۔ باہر وہ الرسالہ کے مخالف ہیں اور اندر وہ اس کو اپنا پیرومرشد بنائے ہوئے ہیں۔ لیڈر صاحب نے اپنے انٹرویو میں اس بات کی تردید کی ہے کہ اس وقت ہندوستان میں جو حالات ہیں ، اس کے باقی رہتے ہوئے بھی مسلمان ترقی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں ، ان کی موجودگی میں بھی مسلمان اپنے لئے ایک بہتر دنیا کی تعمیر کر سکتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں : مسلمان ایجوکیشن کی سیاست چھوڑ کر اگر صرف تجارت کریں تو یہاں کوئی انہیں تجارت کرنے نہیں دے گا۔ مسلمان اگر صرف تعلیمی جد وجہد میں مصروف ہونا چاہیں ، تو انہیں تعلیمی جد وجہد کی اجازت نہیں ملے گی۔ اس ملک میں جو یلغار ہے ، وہ ہمارے پورے وجود پر ہے۔ اس میں اقتصادی، سماجی، سیاسی سارے حقوق اور اختیارات شامل ہیں۔ سیاسی تبدیلی لائے بغیر اور حقوق کی مانگ کے بغیر مسلمانوں کو اس ملک میں کچھ نہیں ملے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہی مسلم ہندوستان “ جس میں عام مسلمانوں کے لئے ، لیڈر صاحب کے بیان کے مطابق ، ترقی کے مواقع بالکل ختم ہو چکے ہیں۔ یہاں موجودہ حالات میں مسلمانوں کو کچھ بھی نہیں مل سکتا۔ مگر اسی مسلم ہندوستان میں خود ان کا اپنا خاندان جو بچوں اور ان کے متعلقین کو ملا کر ایک درجن سے زیادہ افراد پر مشتمل ہے ، وہ کیسے کامیاب ہو گیا۔ کس طرح اس نے اسی نظام ہندوستان میں اپنے لئے قابل رشک حد تک ایک شاندار مستقبل تعمیر کر لیا۔ مذکورہ مسلمان لیڈر نے اپنے انٹرویو میں بتایا ہے کہ انھوں نے طے کیا کہ ”ہم بھوکے رہیں گے مگر ہم اپنے بچوں کو پڑھائیں گے۔ لیڈر صاحب نے اس پر بات وعدہ عمل کیا۔ ان کا کامیاب تجربہ بتاتا ہے کہ یہاں یہ بھی ممکن ہے کہ ”مسلم ہندوستان “ کا ایک باشندہ ” بھوکا “ رہ کر اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا سکے ۔ حتیٰ کہ صرف دس برس میں ان کا شاندار مستقبل بن کر کھڑا ہو جائے ۔ دس سالہ محنت کے بعد ۔ اس کا اپنا پیٹ بھی بھر جائے اور اس کے تمام بچوں کا بھی۔ لیڈر صاحب کے مذکورہ جملہ ( ہم بھوکے کے رہیں گے مگر اپنے بچوں کو پڑھائیں گے ) پر میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس ایک جملے کے اندر معانی کا پورا خزانہ ہے۔ اس کے اندر زندگی کی تعمیر کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader