Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

اسلام ایک عظیم جدوجہد

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

کبھی میں اور برسے بھی، تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ محاسبہ کا ایک دن آنا ضروری ہے جہاں بچوں کو ان کی بھلائی کا اور بڑوں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے۔ رب العالمین پر اعتماد ہی اس کے لیے رب العالمین سے خوف کی بنیاد بن جاتا ہے۔ یہ خدا کا خوف اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جو کسی ڈراؤنی چیز کو دیکھ کر آدمی کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کو کسی بھی لفظ سے صحیح طور پر تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ انتہائی امید اور انتہائی اندیشہ کی ایک ایسی ملی جلی کیفیت ہے جس میں بندہ کبھی یہ طے نہیں کرتا پا کہ دونوں میں سے کس کو فوقیت دے۔ یہ سب کچھ کر کے اپنے کو کچھ نہ سمجھنے کا وہ اعلیٰ ترین احساس ہے جس میں آدمی کو صرف اپنی ذمہ داریاں یاد رہتی ہیں اور اپنے حقوق کو وہ بالکل بھول جاتا ہے۔ یہ محبت اور خوف کا ایک ایسا مقام ہے جس میں آدمی جس سے ڈرتا ہے اسی کی طرف بھاگتا ہے، جس سے چھینے کا خطرہ محسوس کرتا ہے اسی سے پانے کی بھی امید رکھتا ہے یہ ایک ایسا اضطراب ہے جو سراپا اطمینان ہے اور ایسا اطمینان ہے جو سراپا اضطراب ہے۔ یہ ایمان کے تین نمایاں پہلو ہیں۔ ایمان دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو خدا کے خوف، اس پر مکمل اعتماد اور اس کے بارہ میں کامل یقین سے پیدا ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر، اس کے رسولوں پر اور اس کے احکام پر ایمان لائے، اپنا سب کچھ اس کو سونپ دے، اس کے تمام فیصلوں پر راضی ہو جائے وہ مومن ہے۔ ایمان عقل کے لیے ہدایت اور روشنی ہے اور دل کے لیے طہارت اور پاکیزگی۔ اس لیے یہ عقل اور ارادہ دونوں کو ایک ساتھ متاثر کرتا ہے اور خیالات و اعمال سب پر حاوی ہو جاتا ہے۔ قرآن کی زبان میں مومن وہ شخص ہے جو خدا کا خالص اور وفادار بندہ ہے اور اس کے احکام پر یقین و اعتماد کی ساری کیفیت کے ساتھ اطاعت کا معاہدہ کرتا ہے۔ ہجرت اب ہجرت کو لیجیے۔ ہجرت کے معنی ہیں چھوڑنا۔ ترک تعلق کرنا۔ عام طور پر ہجرت کو ترک وطن کے معنی سمجھا جاتا ہے۔ یقیناً ہجرت کا لفظ مخصوص طور پر جس واقعہ کے لیے بولا جاتا ہے وہ یہی ہے مگر کسی واقعہ کو اس کے پس منظر سے الگ کر کے سمجھا نہیں جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ترک وطن جو مومن کی زندگی میں پیش آتا ہے یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہوتا بلکہ ایک لمبی تاریخ کا اختتام ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو مومن کی زندگی میں پہلے دن سے شروع ہوتا ہے اور بالا آخر ترک علائق تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک شخص پر حق کا انکشاف ہوتا ہے اور وہ اٹھ کر لوگوں کو اس کی طرف بلانا شروع کر دیتا ہے، وہ وقت کے خلاف ایک نئی آواز کا علمبردار بن کر گویا یہ اعلان کرتا ہے کہ اس نے ماحول کی بندگی چھوڑ دی ہے اور زمانہ کے خلاف اپنے لیے ایک راہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، یہ ہجرت کا آغاز ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page