Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

اسلام ایک عظیم جدوجہد

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری سرمایہ تک قربان کردے۔ قرآن کی اسی بتائی ہوئی زندگی کو پورا کرنے یا نہ کرنے پر ہمارے مستقبل کا انحصار ہے۔ ایک شخص جو اس حقیقت کو جان چکا ہو کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے، اور پھر جو اس واقعہ پر بھی ایمان لایا ہو کہ آخرت کا ایک عظیم دن آنے والا ہے جب پوری نسل انسانی خدا کی عدالت میں کھڑی کی جائے گی۔ اس کی خواہش اس کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتی کہ قیامت کے اس ہولناک دن، جب وہ مالک کائنات کے سامنے کھڑا ہو تو اس کے بارہ میں اللہ تعالیٰ یہ کہہ دے کہ یہ میرا بندہ ہے جو دنیا کی زندگی میں میرا وفادار رہا۔ مگر یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ یہ مقام کسی کو محض خواہش کے ذریعے حاصل نہیں ہوسکتا۔ دنیا کی معمولی حکومتوں کا یہ حال ہے کہ وہ کسی کو وفاداری کا سرٹیفکیٹ صرف اس وقت دیتی ہیں جب کہ وہ اس کا دین، اخلاق اور ضمیر سب کچھ اس سے خرید لیتی ہیں۔ پھر خدا جو تمام حاکموں کا حاکم ہے، جو بے حد غیرت مند ہے جو اپنی خدائی میں کسی کی معمولی شرکت بھی گوارا نہیں کرتا، وہ کیا محض دل کی ایک خواہش یا زبان کی حرکت سے خوش ہو جائے گا اور کسی کو محض اس بنا پر وفاداری کا اعزاز بخش دے گا کہ وہ ایسا چاہتا ہے، خواہ اس نے اپنی وفاداری کو عملاً اس کے لیے خاص کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسری تمام وفادار یوں کی طرح خدا کا وفادار بننے کی خواہش بھی ایک عظیم جہد جہد کا تقاضا کرتی ہے۔ دنیا کے اداروں میں کسی کی اہمیت صرف اس وقت تسلیم کی جاتی ہے جب وہ اپنی بہترین صلاحیتیں اس کے لیے وقف کردے۔ ایک دکان اپنے اندر نفع کے امکانات کسی کے اوپر صرف اس وقت ظاہر کرتی ہے جب آدمی اپنا سب کچھ اسے دے دیتا ہے۔ حکومتوں کے نزدیک کوئی شخص صرف اسی وقت اعتماد اور احترام کا مستحق بنتا ہے جب وہ اپنے آپ کو پوری طرح اس کی نذر کر چکا ہو۔ ٹھیک اسی طرح اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی وفاداری کا مقام صرف اسے حاصل ہوتا ہے جماپنی قربانیوں کے ذریعہ اس کا استحقاق ثابت کردے۔ شرک نہ دنیا کے معبودوں کو پسند ہے اور نہ خدا کو۔ اس حقیقت کو سامنے رکھیے اور پھر اس دن کا تصور کیجیے جب ہم اور آپ اور تمام اگلے پچھلے پیدا ہونے والے خدا کے پاس اس حال میں جمع کیے جائیں گے کہ ایک رب العالمین کے سوا سب کی آوازیں پست ہو چکی ہوں گی۔ جس دن آدمی اپنے سوا ہر ایک کو بھول جائے گا۔ خواہ وہ اس کا دوست اور قریب ترین عزیز وکیل نہ ہو۔ جس دن صرف حق بات میں وزن ہوگا اور اس کے سوا تمام چیزیں اپنا وزن کھو چکی ہوں گی۔ جس روز نہ آدمی حسرت کرے گا کہ کاش اس نے ساری عمر صرف آج کی تیاری میں صرف کردی ہوتی۔ یہ فیصلہ کا دن ہوگا۔ ہمارے درمیان اور اس دن کے درمیان صرف موت کا فاصلہ ہے۔ وہ موت جس کے متعلق کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب آجائے گی۔ آج جو لمحات ہم گزار رہے ہیں اس کے ہر لمحہ کا انجام ہم کو آئندہ کروڑوں سال تک بھگتنا ہے۔ ہم میں سے ہر شخص ایک ایسے انجام کی طرف چلا جارہا ہے جہاں اس کے لیے یا تو دائمی عیش ہے یا دائمی عذاب۔ زندگی کی مثال ایک ڈھلوان کی ہے جس پر سارے انسان نہایت تیزی کے ساتھ نبھاگے چلے جارہے ہیں۔ ہر لمحہ جو گزرتا ہے وہ ہم کو اس آخری انجام سے قریب تر کر دیتا ہے جو ہم میں سے ہر ایک کے لیے مقدر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page