قرآن کا مطلوب انسان
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچ جاتا ہے۔ تاریخ میں اس کی مثالیں موجود ہیں کہ بعض لوگوں کے علمی ذوق نے انھیں کتابوں کا عاشق بنا دیا ہے۔ کی نہی بہت سی مثالیں ملیں گی کہ کسی فلسفی یا مفکر کی تصنیفات نے لوگوں کو اتنا متاثر کیا کہ وہ بالکل اس کے مومن ہو گئے۔ مگر خدا کی کتاب کا معاملہ اس قسم کے واقعات سے بالکل مختلف ہے۔ یہ کائنات کے خالق و مالک کی کتاب ہے اور ہم اس کے حقیر بندے ہیں۔ اس نسبت کا قدرتی تقاضا ہے کہ قرآن سے ہمارا تعلق محض علمی تعلق نہ ہو بلکہ وہ بندے اور خدا کا تعلق بن جائے۔ ہم جب قرآن کو پڑھیں تو ہمارے اندر پردہ ہیبت طاری ہو جو کائنات کے فرمانروا کا حکم سن کر اس کے ایک عاجز غلام پر طاری ہونی چاہئیے۔ اس کو پڑھتے ہوئے ہمارا دل پگھل جائے، ہماری آواز پست ہو جائے، ہمارا پورا وجود سرا پا عجز و نیاز بن کر اس کے آگے جھک جائے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے۔ اَللهُ الَّذِي نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا وہ اللہ ہے جس نے یہ بہترین کتاب اتاری ہے جس کی مَّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ باتیں آپس میں ملتی ہوئی دہرائی ہوئی ہیں، اس کو سن يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِيْنُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ کر ان لوگوں کے بدن کانپ اٹھتے ہیں جو خدا سے ڈرنے والے اِلَى ذِكْرِ اللهِ (زمر- ۲۳) ہیں، پھر ان کے دل اور ان کے جسم خدا کی یاد کی طرف جھک جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ قرآن خدا سے ڈرنے والوں کے لیے کپکپی پیدا کر دینے والی کتاب ہے، اس کو سن کر ان کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، وہ انھیں خدا کی طرف مائل کرتی ہے، وہ انھیں ذکر الہی میں غرق کر دیتی ہے، وہ جب اسے سنتے ہیں تو ان کے قلوب پگھل کر آنکھوں کے راستے سے بہنے لگتے ہیں۔ قرآن کو سنتے یا پڑھتے کے وقت دل کے اندر خدا کی یاد اور خشوع پیدا ہونا چاہیے، ایسا نہ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی ”قسوت قلب“ کی بیماری میں مبتلا ہو چکا ہے۔ (حدید- ۱۶) یاد رکھیے قرآن سے نا آشنا صرف وہ لوگ نہیں ہیں جن کے لیے یہ کتاب مہجور بن گئی ہے، جنھوں نے قرآن کو اس طرح پس پشت ڈال دیا ہے گویا کہ وہ اسے جانتے ہی نہیں، گویا ان کی زندگی سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، بلکہ وہ شخص بھی قرآن سے محروم ہے جس کے لیے یہ کتاب صرف خوش الحانی کے لیے موزوں الفاظ مہیا کرتی ہو، جس کے لیے وہ محض علمی غور و بحث کا موضوع ہو، جس کے لیے وہ حوالے کی کتاب ہو جس کو وہ تحریر و تقریر کے وقت الٹ پلٹ کر دیکھ لیا کرتا ہو۔ یہ عین ممکن ہے کہ ایک شخص نے ہزاروں انسانوں کے درمیان صرف قرآن کی بنیاد پر اپنی شخصیت کا سکہ بٹھا رکھا ہو، مگر وہ قرآن کی نعمت سے محروم ہو۔ اسی طرح اگر آدمی زبانِ قلم کے ذریعے قرآن کے اسرار و معارف بیان کر رہا ہو مگر اس کی اپنی زندگی ان حقیقتوں سے خالی ہو تو یہ بھی خدا کی کتاب سے محرومی کی ایک قسم ہے۔ دوسروں کو کتاب الہی کا درس دینا اور خود ”نسیانِ میں مبتلا رہنا، قرآن سے تعلق نہیں بلکہ بے تعلقی کا ثبوت ہے (بقرہ - ۴۴)۔ اگر کسی نے لغت اور نحو کی مدد سے الفاظ قرآن کو حل کر لیا ہو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ قرآن کو بھی پا گیا ہے۔ قرآن کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جس نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader