Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

قرآن کا مطلوب انسان

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک اما کا واقعہ ہے۔ ان کی مسجد کے نمازی عموماً دیر کر کے نماز کے لیے آتے تھے۔ ایک روز نماز شروع ہوئی تو حسب دستور پیچھے چند آدمی موجود تھے، اور جب امام نے سلام پھیرا تو پوری صف کھڑی ہوئی نظر آئی۔ یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ ان کی زبان سے نکلا۔ "کاش اللہ تعالیٰ مجھے متقیوں کا امام بنائے۔ ایسے لوگوں کی امامت نے تو مجھے بیمار بنا دیا جن کا حال یہ ہے کہ جب نماز شروع ہو چکی ہے یا اس کا ایک حصہ گزر جاتا ہے تو وہ بھاگم بھاگ آتے ہیں اور دائیں بائیں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ نجانے وہ نماز نہیں ہے جو اللہ اور اس کے رسول کو مطلوب ہے۔ یہ کس کے ساتھ خدا کی عبادت کے لیے اٹھنا ہے جس کو ذکر قلیل کہا گیا ہے یا وہ صلوٰۃ سہو ہے جس پر قرآن میں سخت وعید آئی ہے۔ خاص طور پر صبح کی نماز جو "صلوٰۃ مشہود" ہے یعنی ربنی اسرائیل (۷۸)، اس میں جو شخص وقت پر نہیں پہنچتا یا اس سے غیر حاضر رہتا ہے وہ تو اپنے آپ کو اس خطرے میں ڈال رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مدد کا لباس اس سے اتار لیا جائے اور شیطان کے مقابلہ میں اس کے پاس کوئی پناہ باقی نہ رہے۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے :- مَنْ صَلّٰی صَلُّوۃَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِی ذِمَّۃِ اللَّہِ فَلاَ جس نے صبح کی نماز ادا کر لی وہ اللہ کے ذمہ میں آگیا۔ پس (یا ز) تَطْلُبَنَّكُمُ اللَّهُ مِنْ ذِمَّتِہِ بِشَیۡءٍ فَإِنَّہٗ مَنْ تَطْلُبُہٗ مِنْ ہو کر اللہ تم سے اپنے ذمہ کے متعلق کسی چیز کے بارے میں پوچھے ذِمَّتِہِ یُدْرِكۡہُ ثُمَّ یَكُبُّہٗ عَلٰی وُجُوْہِہٖ فِي کیونکہ اللہ جس سے اپنے ذمہ کے متعلق کسی چیز کے بارے میں سوال نَارِ جَہَنَّمَ (مسلم) کرے گا وہ اس کو پکڑ لے گا اور اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دے گا۔ فجر کی نماز حدیث کے الفاظ میں "اول نہار" کی نماز ہے، وہ دوسری نمازوں کا مقدمہ ہے۔ ہر روز جب صبح کی سپیدی سورج کے آنے کی خبر دیتی ہے تو دو طرح کے مواقع انسان کے لیے کھلتے ہیں، ایک دنیا کا کام، دوسرا آخرت کا کام۔ عین اس وقت موذن بلند مقام پر کھڑے ہو کر آواز دیتا ہے :- حَتَّى عَلَى الصَّلوةِ ، حَتَّى عَلَى الْفَلاحِ آؤ نماز کی طرف، آؤ کامیابی کی طرف۔ یہ پکار انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ دن کی سرگرمیوں کو شروع کرنے سے پہلے خدا کے گھر میں آئے اور فجر کی نماز ادا کر کے اپنے اس ارادے کا اظہار کرے کہ وہ آنے والے لمحات کو آخرت کی کامیابی حاصل کرنے میں لگائے گا، وہ آنے والے دن کو خدا کی عبادت میں بسر کرے گا۔ عین اس وقت ایک اور پکارنے والا پکارتا ہے۔ یہ انسان کا دشمن شیطان ہے جو ایک ایک شخص کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ وہ اپنے دن کو صرف دنیا کا مل کرنے میں لگائے۔ پہلی پکار دیواروں سے ٹکرا کر واپس آجاتی ہے۔ ہزاروں کی آبادی میں صرف چند ایسے لوگ مسجد کے لیے نکلتے ہیں جو بوڑھے ہو چکے ہیں یا کسی اور کام کے قابل نہیں رہے ہیں۔ مگر دوسری پکار کو سن کر شخص اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، کسان اپنے کھیتوں کی طرف چل پڑتے ہیں، تاجر کنجوں کے بڑے بڑے گھٹنے لے کر اپنی دکانوں کی طرف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page