Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

مومن کی تصویر

Urdu book, p. 33

By Maulana Wahiduddin Khan

عزم ہے کہ بندہ اپنے رب کی خاطر ساری مشقتیں جھیلنے کے لیے تیار ہے اور حج گویا آدمی کی طرف سے اس بیقراری کا اظہار ہے کہ وہ دنیا اور اس کی تمام چیزوں کو چھوڑ کر خدا تک پہنچ جانا چاہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کلمہ توحید اور نماز، روزہ، حج و زکوٰۃ بذات خود مکمل اسلام نہیں ہیں بلکہ یہ اسلام سے پیدا ہونے والی اندرونی کیفیات کے چند نشان ہیں۔ یہ مکمل وانگی کی علامتی تصویر ہے نہ کہ انہیں کا نام مکمل حوالگی ہے۔ یہ چیزیں جن کا حدیث میں ذکر ہے یہ شریعت کی وہ مخصوص چیزیں ہیں جن کو ہمارے اوپر فرض قرار دیا گیا ہے اور فرائض کے متعلق سمجھ لینا چاہیے کہ وہ راستے کی حد نہیں ہیں بلکہ وہ صرف راستے کی سمت بتاتے ہیں۔ یہ فرائض ایک طرح کی لازمی تربیت ہیں جو ہم کو مخصوص وقتوں میں ایک مقررہ عمل کرا کے اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ بقیہ وقت میں ہمیں کیا کرنا ہے۔ ان کی حیثیت محض علامات کی ہے نہ کہ ذمہ داریوں کے حدود متعین کرنے کی۔ ایک مثال سے اس کی وضاحت ہو جائے گی۔ نومبر ۱۹۵۹ء میں جب ہندوستان میں چینی جارحیت کا خطرہ بہت بڑھ گیا تھا۔ احمد آباد کے ۲۵ ہزار طلبہ نے یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے دفاع کے لیے لڑیں گے اور اپنی جان دے کر چینی حملہ کا مقابلہ کریں گے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد ان میں سے ہر شخص نے ایک ایک پیسہ دے کر ۲۷ ہزار پیسے جمع کیے اور ان کو ہندوستانی وزیر اعظم کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسے دیتے ہوئے انھوں نے وزیر اعظم سے کہا کہ یہ ہماری طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے To give ourselves to you کا نشان ہے۔ یہ وقت کی ایک مثال ہے جس سے ہم اسلامی فرائض کی حقیقت سمجھ سکتے ہیں۔ بندہ فرائض اور واجبات کی شکل میں اپنے وجود کا تھوڑا تحفہ خدا کو دے کر اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ اپنا پورا وجود خدا کو دینے کے لیے تیار ہے۔ وہ اپنی بعض حیثیتوں میں سے کچھ دے کر تمام حیثیتوں سے اپنا سب کچھ اس کے حوالے کرنے کا ارادہ ظاہر کرتا ہے۔ اب ناز کو لیے جو اس سلسلے کی دوسری چیز ہے۔ جب کوئی شخص مکمل وانگی کے ساتھ خدا کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے بالکل قدرتی نتیجے کے طور پر اس کی پوری زندگی ذکر اور دعا میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اسی ذکر اور دعا کی ایک مخصوص صورت کا نام نماز ہے۔ اہل ایمان کی تعریف قرآن میں یدْعُونَ رَبَّهُم خَوفًا وَطَمَعًا (سجدہ-۱۶) کے الفاظ میں کی گئی ہے۔ یعنی وہ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمتوں کی تمنا کرتے ہوئے اسے پکارتے رہتے ہیں۔ جن واقعات کو دیکھ کر لوگ دوسری چیزوں کو یاد کرتے ہیں ان کو دیکھ کر مومن خدا کے تصور میں غرق ہو جاتا ہے۔ اگر وہ کسی جنازے میں شرکت کے لیے قبرستان جاتا ہے تو یہ موقع اس کے لیے بستی کے لوگوں سے ملاقات کی تقریب نہیں ہوتی بلکہ کھودی جانے والی قبر اس کے لیے ایک کھلا ہوا دروازہ بن جاتی ہے جس سے وہ آخرت کی حقیقتوں کو دیکھنے لگتا ہے۔ اگر وہ کسی عالیشان مکان میں اپنے آپ کو پائے تو وہ اس کے نقش و نگار دیکھنے میں محو نہیں ہو جاتا بلکہ وہ بے اختیار کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا مجھے ایسا مکان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page