با مقصد زندگی
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۔ با مقصد آدمی کی پہلی پہچان وہ ہے جسے کو میں ارتکاز" کے لفظ سے تعبیر کروں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی تمام فکری اور ذہنی قوتیں آپ کے مقصد میں مرکوز ہو جائیں۔ آپ کا سوچنا، آپ کا محبت کرنا، آپ کا نفرت کرنا، سب کچھ آپ کے مقصد کے ساتھ وابستہ ہو سکتے ہوں ۔ آپ کی کوئی چیز دوسری سمت بکھری ہوئی نہ ہو۔ جوتا بنانے والوں کے یہاں آپ نے دیکھا ہوگا، کام کرتے کرتے ان کے پاس بہت سی کیلیں پھیل جاتی ہیں۔ اس وقت وہ یہ کرتے ہیں کہ مقناطیس کا ایک ٹکڑا لے کر وہاں پھراتے ہیں جس سے تمام بکھری ہوئی کیلیں کھینچ کھنچ کر اس سے چمٹ جاتی ہیں۔ اور پھر وہ اٹھا کر اسے خانے میں رکھ لیتے ہیں۔ اس مثال میں مقناطیس کی جگہ آپ اپنے مقصد کو رکھیں اور کیلوں کے بجائے اپنے افکار و خیالات اور جذبات و احساسات کا تصور کریں تو زندگی اور مقصد کے درمیان تعلق کو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقناطیس کے گرد لوہے کے ٹکڑے جس طرح ایک ایک کر کے اکٹھا ہو جاتے ہیں اور آس پاس کا کوئی ٹکڑا ایسا نہیں ہوتا جو اس سے آکر چمٹ نہ گیا ہو، اسی طرح آدمی کے مقصد کے گرد اس کے سارے دل اور سارے دماغ کو مرکوز ہو جانا چاہیے۔ یہاں ایک واقعہ مجھے یاد آتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک صاحب سیکریٹری یہاں آئے ان کو بازار کا کچھ کام تھا۔ بازار جا کر جب وہ لوٹے تو انھوں نے ایک واقعہ بتایا جس سے مجھے بڑی عبتر ہوئی۔ واقعہ بہت چھوٹا سا ہے مگر اس میں ہمارے لئے بڑی نصیحت ہے، انھوں نے کہا کہ میں ایک جگہ پہنچا جہاں سٹرک کے کنارے بہت سے موچی اپنی، اپنی دوکان لئے بیٹھے تھے۔ جب میں انکے پاس سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ ان میں سے ہر شخص میرے جوتے کی طرف دیکھ رہا ہے۔ جس موچی کی نظر اٹھتی ہے وہ بس میرے جوتے پر آکر رک جاتی ہے۔ میں نے سوچا کہ یہ موچی بھی اپنے مقصد میں کس قدر گم ہیں۔ ان کو انسان صرف جوتے کی شکل میں نظر آتا ہے بھرے ہوئے بازار میں سینکڑوں انسان ان کے سامنے سے آتے جاتے ہیں۔ مگر انھیں ان انسانوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ ان کو نظر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ یہ آنے جانے والے لوگ اپنے پاؤں میں ایک ایسی چیز پہنے ہوئے ہیں جس کی پالش کرکے یا جس کی مرمت کرکے وہ کچھ پیسے حاصل کرسکتے ہیں۔ گویا انسان ان کی نظر میں صرف ایک "جوتا" ہے اور بس۔ اسی طرح با مقصد آدمی اپنے مقصد میں گم رہتا ہے۔ اس کو ہر چیز میں صرف اپنا مقصد نظر آتا ہے۔ وہ ہر واقعہ کو، ہر سند کو، ہر بات کو اپنے مقصد کی روشنی میں دیکھتا ہے حتیٰ کہ وہ اپنے مقصد کے تصور میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ دوسری چیزیں اسے بھولنے لگتی ہیں۔ ایک صاحب میں جو بہت فعال آدمی ہیں جو کام بھی کرتے ہیں اس کو پوری طرح لگ کر کرتے ہیں ایک مرتبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader