Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

قرآن کا مطلوب انسان

Urdu book, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

بسم الله الرحمن الرحيم زیر نظر مجموعہ راقم الحروف کی چند تقریروں پر مشتمل ہے۔ یہ تقریری جماعت اسلامی ہند کے مختلف اجتماعات میں ۱۹۵۵ سے لے کر ۱۹۶۳ تک پیش کی گئی تھیں اور اس کے بعد اسی زمانہ میں اکثر ماہنامہ زندگی (رام پور) اور بعض ماہنامہ الفرقان (لکھنؤ) میں شائع ہوئیں۔ ان رسائل کے صفحات سے لے کر انھیں کتابی صورت میں شائع کیا جا رہا ہے۔ ان مختلف تقریروں کو جو چیز ایک کتاب کا مشترک حصہ بناتی ہے، وہ ان کا مشترک موضوع ہے۔ یہ ہے: اسلام کی حقیقت کو واضح کرنا، اور اس کی خدمت و اشاعت کا جذبہ دلوں میں ابھارنا۔ آدمی فطرت سے کچھ صلاحیتیں لے کر آتا ہے۔ مثلاً کوئی فیاض ہوتا ہے کوئی شیریں بیان۔ کوئی فعال ہوتا ہے کوئی حوصلہ مند۔ یہ "انسان" وہ ہے جو ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے یہاں جس انسان کی قیمت ہے وہ یہ نہیں ہے۔ اللہ کے یہاں قیمت رکھنے والا "انسان" وہ ہے تو آدمی کے خود اپنے ارادہ سے ابھرتا ہے۔ آدمی اپنے شوری عمل، بالفاظ دیگر خدائی محرک کے تحت اپنے کو جیسا بناتا ہے اسی کے مطابق وہ اللہ کے یہاں درجہ حاصل کرتا ہے۔ انسان بظاہر بہت سے اعضا و جوارح اور بے شمار بالوں اور ناخنوں کا مجموعہ ہے۔ مگر حقیقتاً انسان ایک لطیف وحدت کا نام ہے۔ اس وحدت کی سطح پر جب کسی فکر کا غلبہ ہو جاتا ہے تو وہ اس کے وجود کے تمام حصوں میں ظاہر ہوتی چلی جاتی ہے۔ ایساری کچھ معاملہ دین کا بھی ہے۔ دین، اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے کسی مجموعہ قوانین کا نام نہیں، وہ ایک قلبی حالت کا نام ہے۔ قلب انسانی میں جب یہ حالت پیدا ہوجاتی ہے تو پوری زندگی اس کے رنگ میں رنگتی چلی جاتی ہے۔ خواہ "نماز روزہ" کا معاملہ ہو یا اسلامی دعوت کا، راہ سے کانٹا ہٹانے کا عمل ہو یا میدان جنگ میں جہاد کرنے کا، رب کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی کے اندر وہ مومنانہ روح پیدا ہو جو آدمی کو اللہ سے قریب کرتی ہے اور اس کے اندر وہ اعلیٰ خصوصیات پیدا کرتی ہے جو اس کو جنتی دنیا کا شہری بنانے والی ہیں۔ یہی اندر کا "مومن" وجود میں آنا تمام اعمال کا اصل مقصود ہے۔ زیر نظر مجموعہ کے مضامین میں، مختلف انداز سے، یہی حقیقت ابھارنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چوں کہ یہ سب اجتماعی خطابات ہیں، اس لئے قدرتی طور پر ان کا انداز تقریری ہے نہ تصنیفی۔ کتابی صورت میں شائع کرتے ہوئے راقم الحروف نے ان مضامین پر نظر ثانی کی ہے۔ تاہم یہ نظر ثانی صرف جزی یا لفظی تبدیلیوں کی حد تک ہے۔ اصل مضمون میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہ مضامین تقریباً اپنی اصل ابتدائی صورت ہی میں شائع کئے جا رہے ہیں۔ ایسا زیادہ تر اس جذبہ کے تحت کیا گیا ہے کہ ان کی تاریخی حیثیت برقرار رہے۔ وحید الدین ۳۰ اپریل ۱۹۶۹

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page