Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

یہ بے حسی کیوں

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ شدید یقینی اور وہ زبردست استحضار دیکھنا چاہتے ہیں جو دل کو پگھلا دے اور آنکھوں کو اشکبار کردے تو یہ سب کچھ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا کہ آپ حدیث کے الفاظ میں ’’تشعیب ہوم‘‘ کو ختم کرکے اپنی ساری نظریں صرف ایک نقطہ پر لگا دیں ۔ ارجن کے مشہور واقعہ کی طرح آپ کو درخت اور چڑیا اور پتے اور پھل نظر نہ آئیں بلکہ صرف ایک چیز نظر آئے ـــــ شکار کی بائیں آنکھ‘‘ جب آپ یہ ذہنی گم شدگی اور یہ استغراق اپنے اندر پیدا کریں گے تو عادت اور ذوق کے تقاضے آپ کا ساتھ چھوڑنے پر مجبور ہوں گے ، لذتوں اور آسائشوں کا خیال مدہم پڑ جائے گا۔ فکر کی زیادتی جسمانی تقاضوں پر غالب آنے لگے گی ۔ آپ کا ہنسنا اور بولنا کم ہو جائے گا، تصوراتی دنیا کو پانے کی کوشش میں آپ مادی دنیا سے دور ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس وقت ممکن ہے لوگ کہیں تم پاگل ہو گئے ہو۔ مگر اس سے گھبرائیے نہیں، کیونکہ یہی وہ صحیح ترین خطاب ہے جو کسی با مقصد آدمی کو اہلِ دنیا کی طرف سے دیا جا سکتا ہے۔ ۲- زہد فی الدنیا کے ذریعہ دوسری چیز جو حاصل ہوتی ہے وہ لطافتِ روح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مادی دنیا میں آدمی جتنا زیادہ مشغول ہوگا۔ اس کی روح میں اسی قدر کثافت پیدا ہوگی۔ اور جتنا وہ اس سے اپنے آپ کو دور لے جائے گا اسی کے قدر اس کی روح پاک اور خالص ہوتی چلی جائے گی۔ یہ غلط فہمی نہ ہو کہ میں رہبانیت کی تبلیغ کر رہا ہوں، رہبانیت دنیا سے اپنے آپ کو الگ کر لینے کا نام ہے حتیٰ کہ اس مقصد سے اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مار ڈالے تو یہ بھی رہبانی فلسفہ کے مطابق جائز ہوگا۔ اس کے برعکس زہد یہ ہے کہ آدمی مکمل طور پر اسی دنیا میں ہو۔ مگر اس سے بے رغبت ہو چکا ہو وہ دنیا میں رہتے ہوئے زمینی حیثیت سے اس سے باہر نکل جائے۔ مومن بھی یقیناً راہب ہوتا ہے، مگر اس کی رہبانیت سچی رہبانیت ہے جب کہ دوسرے مذاہب جسمانی رہبانیت میں عقیدہ رکھتے ہیں۔ ’’اللہ تعالیٰ نے کسی کے سینے میں دو دل نہیں بنائے‘‘، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کے احساسات کسی ایک ہی چیز کے بارے میں شدید ہو سکتے ہیں ۔ وہ دو سمتوں میں حرکت نہیں کرسکتے۔ اگر آپ دنیا اور اس کے سازو سامان کو اہمیت دینے لگیں تو آخرت کا خیال آپ کے اندر کمزور پڑ جائے گا اور اگر آپ آخرت کی فکر میں مشغول ہوں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کے بارے میں آپ پر غفلت طاری ہونے لگے گی۔ جو شخص دنیوی قدروں کو اہمیت دیتا ہے، اس کا لازمی مطلب یہ ہے کہ وہ اُخروی قدروں کو پامال کر رہا ہے۔ آپ کو ایسے ’’خوش مذاق‘‘ ملیں گے جن کے کھانے کی پلیٹ میں مکھی پڑ جائے تو وہ اس کو کھانا پسند نہیں کریں گے۔ دوسری طرف ان کے اسلام میں کتنی ہی مکھیاں پڑی سٹھ رہی ہوں گی۔ مگر اس کی عفونت کا انھیں اندازہ نہ ہوگا۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ دنیا کی طرف رغبت نے آدمی کی حستیات کو دنیا کے بارے میں تو بہت تیز کر دیا، مگر اس کا دوسرا نتیجہ یہ ہوا کہ آخرت کے بارے میں اس کی حستیات کند ہو کر رہ گئیں۔ یہ دنیا جو آپ کے جسم کو موٹا کرتی ہے۔ یہ آپ کی روح کی قاتل ہے۔ اگر آپ اس کے اندر لذت ڈھونڈنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page