یہ بے حسی کیوں
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی روح کو ابھی تک دنیا کی کثافتوں سے پاک نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کی حسیات انہیں معاملات میں زیادہ کام کریں گی جہاں وہ عملاً پڑا ہوا ہے۔ مگر جس دنیا سے وہ دور ہے جہاں اس نے ابھی تک اپنے آپ کو پہنچایا نہیں اس کی حقیقتوں کو وہ کیسے گرفت کر سکتا ہے اور ان کے ذکر سے کس طرح اس کے اندر ہلچل برپا ہو سکتی ہے — شخصیت پرستی کسی کے ذہن کی تمام کھڑکیاں بند کر دے تو حق کی روشنی اس کے اندر کس راہ سے داخل ہو گی۔ اگر آپ چند آدمیوں کے ساتھ بیٹھے ہوں اور یکایک تار آئے کہ آپ کے اکلوتے لڑکے کا انتقال ہو گیا، تو دوسرے لوگ جیسے پہلے تھے ویسے اب بھی رہیں گے مگر آپ تڑپ اٹھیں گے۔ آپ کی حالت بالکل بدل جائے گی۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ جس شخص کے متعلق خبر آئی ہے اس کی خبر سننے کے لئے پہلے سے آپ کے دل کے تمام گوشے خالی تھے اس لئے وہ سیدھی آپ کے دل میں گھس گئی۔ اس کے برعکس بقیہ لوگوں کے دل میں اس نے جانے کا راستہ نہیں پایا کیوں کہ ان کے دل کچھ دوسرے لوگوں کی محبت سے بھرے ہوئے تھے۔ ٹھیک اسی طرح جب قرآن کی "تلاوت" ہو رہی ہو۔ جب کلمات حکمت سنائے جا رہے ہوں، جب کوئی منادی کرنے والا ایمان کی منادی کر رہا ہو، تو اس کی آواز انہیں لوگوں کے دل سے ٹکرائے گی جنہوں نے اپنا سینہ اس کے لئے کھلا رکھا ہو۔ اور جس نے اپنے اندرون کو دوسری پرستشوں کا گودام بنا رکھا ہے اس پر کوئی آواز اثر نہیں کر سکتی، وہ تو اسی وقت سنے گا جب صاعقہ عظیم اس کے کان کے پردے پھاڑ دے۔ ۳۔ زہد کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ وہ آپ کے لوازم زندگی میں کمی کر دیتا ہے۔ ہر با مقصد آدمی فطرتاً ایک تضاد میں مبتلا کیا گیا ہے۔ ایک طرف اس کے جسم کے تقاضے ہیں جن کی فہرست کا کوئی شمار نہیں۔ اور دوسری طرف اس کا مقصد ہے جو تقاضا کرتا ہے کہ ساری توجہ اسی کی طرف لگا دی جائے۔ اس تضاد کو ہم بالکلیہ ختم نہیں کر سکتے ہماری بہترین عقل مندی یہ ہے کہ ہم اس میں کمی کی کوشش کریں۔ دنیا کے تمام وہ لوگ جنہوں نے کوئی بڑا کام انجام دیا ہے، وہ اپنے مشن کی تکمیل کے لئے مجبور تھے کہ اپنے لوازم حیات میں ہر ممکن حد تک کمی کریں۔ آپ کے سامنے بھی ایک عظیم مشن — دنیا کے سامنے حق کی گواہی دینے کا مشن، ہے۔ اس لئے اگر آپ اسے تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں تو آپ کو بھی اسی اصول پر عمل کرنا ہو گا۔ البتہ اس میں اسلام کے اپنے نظریہ زندگی کا لحاظ ضروری ہے۔ میں ہرگز یہ نہیں کہوں گا کہ آپ نیوٹن کی طرح شادی نہ کریں۔ مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ آپ نیوٹن کی طرح سگریٹ نہ پیئیں۔ کیوں کہ شادی ایک حقیقی ضرورت ہے جب کہ تمباکو، انسان کی فطری ضرورتوں پر ایک مصنوعی ضرورت کا اضافہ ہے۔ لوازم حیات میں کمی کا یہ پہلو تو بالکل واضح ہے کہ وہ آپ کو اپنے مقصد میں زیادہ حصہ لینے کے قابل بناتا ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ کی دیگر ضروریات کی فہرست جتنی مختصر ہو گی آپ اسی قدر اپنے مقصد کے کاموں کے لئے زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader