Urdu book · قرآن کا مطلوب انسان

دعوتِ اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داریاں

Urdu book, p. 69

By Maulana Wahiduddin Khan

خام خیالی ہوگی اگر کوئی شخص سمجھے کہ محض سطحی قسم کے عمل کے ذریعہ وہ اسے حاصل کرلے گا : أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُمْ مَّثَلُ (اے مسلمانوں!) کیا تم نے سمجھ رکھا ہے کہ تمہیں جنت میں داخلہ الَّذِينَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ مَّسَّتْهُمُ الْبَاسَاءُ وَالضَّرَّاءُ مل جائے گا۔ حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات گزرے ہی نہیں وَزُلْزِلُوا حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُوا جو اس سے پہلے کے لوگوں پر گزر چکے ہیں۔ ان کو تکلیفیں اور مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِيبٌ مصیبتیں لاحق ہوئیں، وہ ہلا مرے گئے، یہاں تک کہ رسول بقرہ ۲۱۴ اور اس کے ساتھی اہل ایمان پکار اٹھے کہ خدا کی مدد کب آئے گی۔ سن لو! ایسے لوگوں کے لئے) خدا کی مدد قریب ہے۔ آخر میں آپ کو میں ایک واقعہ سنانا چاہتا ہوں جو پچھلے دس سال سے میری یادداشت کا بہترین حصہ رہا ہے یہ ایک انگریز مسٹر آرنلڈ کا واقعہ ہے جو علی گڑھ میں فلسفہ کے پروفیسر تھے۔ ۱۸۹۲ء میں جب مولانا شبلی نے قسطنطنیہ کا سفر کیا تو جہاز میں پورٹ سعید تک مسٹر آرنلڈ کا بھی ساتھ رہا۔ مولانا شبلی لکھتے ہیں : " آرمی کی صبح کو میں سونے سے اٹھا تو ایک ہم سفر نے کہا کہ جہاز کا انجن ٹوٹ گیا۔ میں نے دیکھا تو واقعی کپتان اور جہاز کے ملازم گھبرائے پھرتے تھے اور اس کی درستی کی تدبیریں کر رہے تھے۔ انجن بالکل بے کار ہو گیا تھا اور جہاز نہایت آہستہ آہستہ ہوا کے سہارے چل رہا تھا۔ میں سخت گھبرایا اور نہایت ناگوار خیالات دل میں آنے لگے۔ اس اضطراب میں اور کیا کر سکتا تھا۔ دوڑا ہوا مسٹر آرنلڈ کے پاس گیا۔ وہ اس وقت نہایت اطمینان کے ساتھ کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کو خبر بھی ہے، بولے کہ ہاں انجن ٹوٹ گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو کچھ اضطراب نہیں بھلا یہ کتاب دیکھنے کا موقع ہے۔ فرمایا کہ جہاز کو اگر بربادی ہونا ہے تو یہ تھوڑا سا وقت اور بھی قدر کے قابل ہے اور ایسے قابل قدر وقت کو رائیگاں کرنا بالکل بے عقلی ہے۔" سفر نامہ روم و مصر و شام صفحہ ۱۲ سمندر کی لہروں کے درمیان جہاز کی یہ غیر یقینی حالت آٹھ گھنٹے قائم رہی۔ آٹھ گھنٹے کا یہ وقت مسٹر آرنلڈ کے لئے جو حیثیت رکھتا تھا مومن کے لئے وہی حیثیت اس کی پوری زندگی کی ہے۔ آپ ہر وقت اس خطرے میں مبتلا ہیں کہ اچانک آپ کی موت آجائے۔ ہر لمحہ آپ کے لئے زندگی کا آخری لمحہ ہے۔ اگر آدمی کو اس بات کا واقعی احساس ہو جائے تو وہ اسی طرح ہمہ تن مشغول نظر آئے گا جیسے امتحان میں بیٹھا ہوا وہ طالب علم جس کا وقت ختم ہو رہا ہو اور ابھی اسے کئی سوال کرنے باقی ہوں۔ لیکن اگر آپ غفلت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر آپ اپنے وقت کی اہمیت نہیں سمجھتے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کو اس نازک صورت حال کا احساس نہیں ہے جس میں آپ کی زندگی کا جہاز گھرا ہوا ہے۔ آپ موت سے نہیں ڈرتے آپ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے۔ سوچئے کہ آپ کی زندگی آپ کے بارے میں کس چیز کا ثبوت دے رہی ہے (زندگی بیتا لادل) ۱۳۸۱

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page