خدمتِ دین کی مشکلات
Urdu book, p. 71
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کھینچیں گئی ہے۔ پاسبانوں کی غفلت سے باطل اس پر حملہ آور ہوگیا ہے۔ زمین کی خرابی سے اس کے پہنے اپنی جگہ سے ہٹ گئے ہیں۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ آپ اس کے لئے دوڑ پڑیں۔ آپ اس کو اٹھانے کے لئے اپنے وجود کو لگا دیں۔ آپ کی زندگی کا بہترین مصرف، آپ کے اوقات کا اعلیٰ ترین استعمال اس وقت اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ یہی ہے کہ آپ خدا کے دین کی گاڑی کو اٹھانے میں لگے ہوئے ہوں ۔ اس زمین پر انسان کے لئے اس سے بڑی اور کوئی سعادت نہیں۔ خدا کے دین کا مظلوم ہونا ہمارے لئے سعادت وکمرانی کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ اگر چہ دین اور اہل دین کے لئے انتہائی سخت حالت ہے، مگر انھیں سخت حالات میں ہمارے لئے اُس سب سے بڑی کامیابی کا راز چھپا ہوا ہے جس کی اس دنیا میں کوئی شخص تمنا کر سکتا ہے۔ انسان کے لئے اس سے بڑی اور کوئی سعادت نہیں کہ وہ خدا کے کام میں لگا ہوا ہو۔ ہمارا عاجز اور کمزور وجود خدا کی خدمت میں مصروف ہو۔ کیا اس سے بڑی بھی کوئی بات ہو سکتی ہے جس کی ہم آرزو کریں۔ لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی اس سے بڑی بات یہ ہے کہ خدا کی مدد کے لئے اُٹھنا خود ہم کو خدا کی مدد کا مستحق بناتا ہے۔ جب بندہ خدا کے کام میں مصروف ہوتا ہے تو وہ تنہا نہیں ہوتا، بلکہ خود خدا بھی اس کے ساتھ ہو جاتا ہے۔ خدمت دین وہ بہترین وقت ہے جب بندے کو خدا کی معیت حاصل ہوتی ہے۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ لمحات کس قدر قیمتی ہیں جب بندہ خدا کے ساتھ چل رہا ہو، جب وہ خدا کے سایہ میں سفر کر رہا ہو، جب خدا کے فرشتے اس کے ہم رکاب ہوں، جب وہ براہ راست خدا کی نگرانی میں آیا ہو۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک معمولی آدمی کو اگر کسی حاکم کی معیت حاصل ہو جائے تو وہ پھولا نہیں سماتا۔ پھر خدا کی معیت اور اس کی مدد کا کیا ٹھکانا۔ دین آج جس چیز کا تقاضا کر رہا ہے، اسے آپ ہی کو پورا کرنا ہے۔ یہ کام آپ کو انجام دینا ہے۔ خدا کی طرف سے آپ کو ایمان کی توفیق ملنا اور آخری رسول کی امت میں شامل کیا جانا، گویا خدا کی طرف سے آپ کو اس کام پر مقرر کیا جانا ہے۔ آپ کا ایمان ، اس کام پر آپ کے تقرر کا نشان ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جب کسی شخص کو کسی کام پر مقرر کیا جاتا ہے تو اس کے لئے اس کی ڈیوٹی کے مطابق تمام انتظامات بھی کر دیئے جاتے ہیں۔ ایک شخص کو حکومت کی طرف سے خط ملے کہ تم کو فلاں جنگی علاقے میں فارسٹ افسر بنایا گیا ہے، تم وہاں جاکر اپنی ڈیوٹی سنبھالو۔ تو اس کے ذہن میں فوراً چند سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس وقت وہ سرکاری ملازم متوں کے متعلق حکومت کے شائع شدہ قواعد وضوابط سے رجوع کرے تو وہ دیکھے گا کہ وہاں اس کے سارے سوالات کا پیشگی جواب لکھ دیا گیا ہے۔ "گھر سے ڈیوٹی کے مقام تک جانے کی صورت کیا ہوگی؟" جواب یہ کہ تم کو پوری مسافت کے لئے معقول سفر خرچ دیا جاتا ہے۔ "میں وہاں جاکر کس جگہ رہوں گا؟" اس کا جواب یہ ہوگا کہ وہاں تمھارے رہنے کے لئے سرکاری بنگلہ بنا ہوا ہے۔ "جنگل میں اپنی حفاظت کے لئے میں کیا کروں گا؟" حفاظتی دستہ تمھارے ساتھ موجود رہے گا۔ "گھر کے اخراجات کے لئے کیا ہوگا؟" تم کو ماہانہ تنخواہ کے طور پر ایک معقول رقم دی جائے گی۔ اسی طرح ملازم کے ہر سوال کا ایک اطمینان بخش جواب حکومت کے پاس موجود ہوگا۔ ہر تقرر نامہ یہ چاہتا ہے کہ جس کو مقرر کیا جائے، اس کی ضروریات اور مشکلات کا بھی اس میں پورا لحاظ کیا گیا ہو۔ اسی طرح خدا نے جب آپ کو ایک کام پر مقرر کیا ہے تو اس کے ساتھ اس نے یقینی طور پر آپ کی ہر ضرورت کا انتظام بھی کر دیا ہے۔ خدا تمام مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے۔ اس کے ہاتھ میں زمین و آسمان کا اقتدار ہے۔ ذرائع و وسائل کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader