وقفہ تعمیر
Urdu book, p. 162
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ سراپا نرمی بن جاتا ہے۔ ہواؤں کے جھونکے آتے ہیں تو وہ ان کے مقابلے میں اکڑتا نہیں، بلکہ ہوا کا جھونکا اس کو جس طرف لے جانا چاہتا ہے، وہ اسی طرف چلا جاتا ہے۔ وہ حالی کی زبان میں، "چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی" کی تصویر بن جاتا ہے۔ مگر اسی پودے کو 25 سال بعد دیکھیے تو وہ بالکل دوسری تصویر پیش کر رہا ہوگا۔ اب وہ اپنے موٹے تنہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ اب جھکنے کا لفظ اس کی ڈکشنری سے خارج ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ ہواؤں کے جھونکے سے غیر متاثرہ کر سیدھا اپنی جڑوں پر کھڑا رہتا ہے۔ اب وہ زمین پر "درخت" بن کر رہتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وہ "پودا" بن کر رہ رہا تھا۔ درخت اس طرح تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ہر آدمی پر ابتدا ء وہ وقت آتا ہے جب کہ اس کو ایک وقفہ تعمیر درکار ہوتا ہے۔ جب ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنی جڑیں زمین میں داخل کرے ۔ وہ اپنے تنہ کو مضبوط کرے۔ وہ اپنے آپ کو ایک طاقت و وجود کی حیثیت سے نشوونما دے۔ اس وقفے کے دوران اس کو اس طرح نہیں رہنا چاہیے جس طرح کوئی شخص مضبوط اور مستحکم ہونے کے بعد رہتا ہے۔ اس ابتدائی مرحلہ میں اس کو نرمی اور موافقت (adjustment) کا مجسمہ بن جانا چاہیے ۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کی تعمیر کا وقفہ نہیں ملے گا، اور جو کوئی وقفہ تعمیر سے محروم ہو جائے ، وہ کبھی مرحلہ تعمیر تک بھی نہیں پہنچے گا۔ ایسا شخص ہمیشہ کمزور پودا بن رہے گا، وہ کبھی تناور درخت کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader