کامیابی کا راز یہاں ہے
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
کامیابی کا راز یہاں ہے یہ مدراس کا واقعہ ہے۔ سمندر کے ساحل پر دو نوجوان نہارہے تھے۔ دونوں دوست تھے اور تیرا کی اچھی جانتے تھے۔ وہ پانی کے اوپر اوپر بھی تیرتے تھے اور ڈبکی لگا کر پانی کے اندر اندر بھی دور تک نکل جاتے تھے۔ دونوں تیرتے ہوئے دور تک چلے گئے۔ اس کے بعد موجوں کا ایک تھپڑ آیا۔ دونوں اس کی زد میں آگئے۔ ایک نوجوان زیادہ ماہر تھا۔ "میں موجوں سے لڑ کر پار ہو جاؤں گا" اس نے کہا اور موجوں کے مقابلہ میں اپنی تیرا کی کا کمال دکھانے لگا۔ مگر موجوں کا زور زیادہ تھا، وہ اپنے طاقت ور بازؤوں کے باوجود ان سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اور ڈوب کر مر گیا۔ دوسرا نوجوان بھی طوفان کی زد میں آیا۔ تھوڑی دیر اس نے اپنے ساتھی کی پیروی کی۔ اس کے بعد اس نے محسوس کر لیا کہ موجوں کی شدت اس سے زیادہ ہے کہ میرے بازو اس کا مقابلہ کر کے نکلنے میں کامیاب ہو سکیں۔ اچانک اس کو ایک بات یاد آئی۔ اس نے سنا تھا کہ موجیں خواہ کتنی ہی شدید ہوں ان کا زور اوپر اوپر پر رہتا ہے۔ پانی کی نیچے کی سطح پر بھی ساکن رہتی ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنا طریق عمل بدل دیا۔ اوپر کی موجوں سے لڑنے کے بجائے اس نے نیچے کی طرف ڈبکی لگائی اور پانی کی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ یہاں پانی نسبتاً ٹھہر اہوا تھا اور اس کے لیے ممکن تھا کہ وہ اپنے تیرنے کے فن کو کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکے۔ اس نے ساحل کی طرف تیر نا شروع کر دیا۔ اگرچہ وہ کافی تھک چکا تھا۔ تاہم ہاتھ پاؤں مارتے ہوئے بالآخر وہ سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ کنارے پہنچتے پہنچتے وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔ سمندر کے کنارے چند ملاح اپنی کشتیاں لئے ہوئے موجود تھے۔ انھوں نے فوراً اس کو دیکھ کر اٹھایا اور خشکی پر لے گئے۔ اس کے بعد اس کو اسپتال پہنچایا گیا۔ وہاں چند دن زیر علاج رہ کر وہ اچھا ہو گیا ۔۔۔ جس نے موجوں سے لڑنے کو تیرا کی سمجھاتھا وہ ہلاک ہو گیا اور جس نے موجوں سے کتر اکتر نکلنے کا طریقہ اختیار کیا وہ کامیاب رہا۔ یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ زندگی میں طرح طرح کے طوفان آتے ہیں۔ مگر عقل مندی یہ نہیں ہے کہ جو تھپیڑ سامنے آئے بس آدمی اس سے لڑنا شروع کر دے۔ عقل مندی یہ ہے کہ آدمی جائزہ لے کر دیکھے کہ کامیابی کے ساتھ ساحل تک پہنچنے کا زیادہ قابل عمل راستہ کون سا ہے۔ اور جو راستہ قابل عمل ہو اسی کو اختیار کرے خواہ وہ موجوں کی سطح سے اتر کر نیچے نیچے اپنا راستہ بنانا کیوں نہ ہو۔ یہ قدرت کا انتظام ہے کہ دریاؤں اور سمندروں میں جو تیز و تند موجیں اٹھتی ہیں وہ پانی کے اوپر اوپر رہتی ہیں۔ پانی کے نیچے کی سطح ساکن رہتی ہے۔ چنانچہ بھنور کے وقت مچھیاں نچلی سطح پر چلی جاتی ہیں۔ یہ قدرت کا سبق ہے۔ اس طرح قدرت ہم کو بتاتی ہے کہ طوفانی موجوں کے وقت ہم کو کیا طریق عمل اختیار کرنا چاہئے۔ زندگی میں کبھی طوفان سے لڑنا بھی پڑتا ہے۔ مگر اکثر اوقات کامیابی کا راز یہ ہوتا ہے کہ آدمی طوفانی سیلاب سے کتر اکتر نکل جائے۔ وہ طوفان کی زد سے بچتا ہوا اپنا راستہ بنائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader