Urdu book · راہیں بند نہیں

غلطی مان لینے سے

Urdu book, p. 28

By Maulana Wahiduddin Khan

غلطی مان لینے سے ایک پریس نے ایک مرتبہ ایک بڑے ادارے کی کتاب چھاپی۔ کتاب کی تعداد پانچ ہزار تھی۔ کتاب جب چھپ کرا درمل ہو کر ادارہ میں پہنچی تو اس کے بعد ادارہ کے منیجر کا فیملی فون آیا۔ وہ کہہ رہا تھا ” آپ فورا یہاں آکر مجھ سے ملئے“ پریس کا مالک پہنچا تو ادارہ کا منیجر اس کے اوپر برس پڑا۔ اس نے مطبوعہ کتاب کے چند نسخے دکھاتے ہوئے کہا ” یہ دیکھئے، اس کی کٹنگ کتنی غلط ہوئی ہے۔ پریس کے مالک نے دیکھا تو واقعی کٹنگ ترچھی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ایک طرف کا کونا زیادہ نکلا ہوا تھا۔ پریس کے مالک نے دیکھا اور خاموش رہا۔ دوسری طرف ادارہ کا منیجر مسلسل بگڑے چلا جا رہا تھا آخر جب وہ اپنے تمام الفاظ ختم کر چکا تو پریس کے مالک نے سنجیدگی کے ساتھ کہا: ” آپ کیوں اس قدر پریشان ہیں نقصان تو تمہارا ہو رہا ہے، ہم کو پریشان ہونا چاہئے “ ”کیا مطلب ، آپ کا نقصان کیسا “ ” ظاہر ہے کہ اس حالت میں میں آپ کو کتاب نہیں دے سکتا۔ اس کو تو میں واپس لے جاؤں گا اور دوبارہ آپ کو دوسری کتاب چاپ کر دوں گا۔ یہ میری ذمہ داری ہے۔ خواہ مجھے کتنا ہی نقصان ہو مگر مجھے آپ کو صحیح کام دینا ہے“ پریس کے مالک کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا تھا کہ ادارہ کے منیجر کا لہجہ یکایک بدل گیا۔ وہی شخص جو پہلے بگڑے ہوئے انداز میں بول رہا تھا اب اس کا رویہ ہمدردانہ ہو گیا۔ کیونکہ پریس والے نے اپنی غلطی تسلیم کر لی تھی۔ ادارہ کے منیجر کو عام رواج کے مطابق اس کی امید نہیں تھی۔ مگر جب اس نے دیکھا کہ وہ نہ صرف اپنی غلطی مان رہا ہے بلکہ اس کی پوری تلافی کرنے کے لئے تیار ہے تو اس کا متاثر ہونا بالکل فطری تھا۔ ”نہیں آپ اتنا نقصان کیوں برداشت کریں “ اس نے اپنا انداز بدلتے ہوئے کہا۔ جب پریس کے مالک نے دیکھا کہ منیجر کا دل نرم پڑ چکا ہے تو اس نے منیجر سے کہا: ایک شکل سمجھ میں آتی ہے۔ آپ مجھے چند کتابیں دے دیجئے۔ میں کوشش کرتا ہوں۔ اگر کامیابی ہو گئی تو دوبارہ چھپوانے کی ضرورت نہ ہوگی۔ منیجر نے کہا: بڑے شوق سے، آپ ضرور کوشش کیجئے۔ اس کے بعد پریس کا مالک کتاب کے دس نسخے لے کر واپس آگیا۔ اس نے اچھی مشین میں احتیاط سے کٹا کر کتاب کے چاروں کونے دوبارہ صحیح کرائے۔ اب پریس کا مالک اس کو لے کر ادارہ کے منیجر کے پاس گیا۔ منیجر اس کو دیکھ کر خوش ہو گیا۔ اس نے کہا، بالکل ٹھیک ہے، اسی طرح آپ سب کتابیں درست کرا دیجئے ۔ ” گاہک کی نظر میں جو غلطی ایک انچ کی ہوتی ہے اس کو میں ایک فٹ کے برابر ماننے کے لئے تیار رہتا ہوں“ پریس کے مالک نے کہا ” یہ در حقیقت کسی کاروبار میں کامیابی کے لئے بے حد اہم ہے۔ گاہک کو مطمئن کر کے آپ گاہک کو ہر چیز پر راضی کر سکتے ہیں، بلکہ میرا تو یہ حال ہے، پریس کے مالک نے مزید کہا ” کہ اگر میرے کام میں غلطی ہو گئی ہے اور وہ میری نظر میں آجاتی ہے تو میں خود ہی گاہک کو بتا دیتا ہوں کہ مجھ سے فلاں غلطی ہو گئی ہے۔ اب تلافی کی جو شکل بتاؤ، میں اس کے لئے تیار ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گاہک کو ہمدردی ہو جاتی ہے۔ اور غیر کسی ناخوش گواری کے معاملہ ختم ہو جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page