Urdu book · راہیں بند نہیں

ایک وراثت یہ بھی ہے

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک وراثت یہ بھی ہے کریم بخش سیدھے سادے دین دار آدمی تھے۔ گاؤں کی معمولی آمدنی پر گزارہ کر لیتے ۔ ۷۵ سال کی عمریں وہ چار بچے چھوڑ کر مرے تو ان کے لئے انھوں نے کوئی قابل ذکر جائیداد نہیں چھوڑی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے صاحب زادے رحیم بخش شہر چلے آئے تاکہ اپنے لئے کمائی کی کوئی صورت کر سکیں۔ شہر میں انھوں نے مختصر سرمایہ کے ساتھ ایک کاروبار شروع کر دیا۔ رحیم بخش کے والد نے ان کے لئے کوئی مادی وراثت نہیں چھوڑی تھی۔ مگر قناعت اور سادگی اور کسی سے لڑے بھڑے بغیر اپنا کام کرنے کی وراثت چھوڑتی تھی۔ یہ وراثت رحیم بخش کے لئے بے حد مفید ثابت ہوئی ۔ ان کی سادگی اور قناعت کا نتیجہ یہ ہوا کہ معمولی آمدنی کے باجود وہ مسلسل ترقی کرنے لگے۔ ان کا لڑائی بھڑائی سے بچنے کا مزاج ان کے لئے مزید معاون ثابت ہوا۔ ہر ایک ان سے خوش تھا۔ ہر ایک سے ان کو تعاون مل رہا تھا۔ ان کی ترقی کی رفتار اگرچہ سست تھی مگر وہ ایک دن رکے بغیر جاری رہی۔ رحیم بخش کا کاروبار اگر چہ معمولی تھا مگر ان کی شرافت، ان کی بے غرضی اور ان کی ایمان داری نے ان کو اپنے ماحول میں اتنی عزت دے رکھی تھی جیسے کہ وہ کوئی بڑی حیثیت کے آدمی ہوں۔ ان کے پاس سرمایہ بہت کم تھا مگر لین دین میں صفائی اور وعدہ کا پکا ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بازار میں بڑے بڑے تھوک بیوپاری ان سے کہتے کہ ”میاں جی، جتنا چاہیے مال لے جاؤ۔ پیسہ کی پروا نہ کرو۔ پیسے بعد کو آجاتیں گے “، بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ کسی سے جھگڑے کی نوبت آگئی ۔ مگر انھوں نے خود ہی اپنے کو چپ کر لیا۔ وہ شریر آدمی کے خلاف کوئی جوابی کارروائی نہ کرتے بلکہ خاموشی سے اپنے کاروبار میں لگ جاتے اور اس کے حق میں دعا کرنے رہتے۔ جب بھی ان کے دل میں شیطان کوئی بد معاملگی کا جذبہ ڈالتا تو ان کے والد کا معصوم چہرہ ان کے سامنے آکر کھڑا ہو جاتا۔ ان کو ایسا محسوس ہوتا کہ اگر میں نے کوئی غلط معاملہ کیا یا کسی سے جھگڑا فساد کیا تو میرے باپ کی روح قبر میں تڑپ اٹھے گی۔ یہ خیال فوراً ان کے جذبات کو دبا دیتا۔ وہ دوبارہ اسی تعمیری راستہ پر چل پڑتے جس میں انھیں ان کے باپ نے چھوڑ اتھا۔ ان کا کاروبار بڑھا تو ان کو مزید معاون کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اب انھوں نے اپنے بھائیوں کو بلانا شروع کیا۔ یہاں تک کہ چاروں بھائی شہر میں منتقل ہوگئے۔ دھیرے دھیرے ان کے کاروبار کے چار مستقل شعبے ہوگئے۔ ہر شعبہ ایک ایک بھائی کے سپرد تھا۔ چاروں بھائی ایک ساتھ مل کر رہتے اور ساتھ کھاتے پیتے ۔ مگر کاروباری اعتبار سے ہر بھائی اپنے اپنے شعبہ کو آزادانہ طور پر انجام دیتا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page