Urdu book · راہیں بند نہیں

اتنی عقل جانور کو بھی ہوتی ہے

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

اتنی عقل جانور کو بھی ہوتی ہے قرآن میں آدم کے دو بیٹوں کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک بھائی نے غصہ میں آ کر دوسرے بھائی کو قتل کر دیا۔ یہ کسی انسان کے قتل کا پہلا واقعہ تھا۔ قاتل کی سمجھ میں نہ آیا کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیا کرے۔ اس وقت اللہ نے ایک کوّا بھیجا۔ اس نے مرے ہوئے کوّے کو اس کے سامنے "دفن" کیا ۔ اس نے اپنی چونچ اور پنچے سے زمین کھودی اور مردہ کوّے کو اس کے اندر رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی۔ یہ دیکھ کر قاتل بولا: افسوس ہے مجھ پر۔ میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں چھپانے کی تدبیر کرتا (مائدہ) نیسل انسانی کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ اس وقت سے اب تک برابر خدا یہ کر رہا ہے کہ وہ حیوانات میں سے کسی حیوان کو "بھیج کر" ہم کو ہماری زندگی کے بارہ میں سبق دیتا ہے۔ مگر انسان مشکل ہی سے ایسا کرتا ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات سے اپنے لئے سبق لے۔ یہاں ایک پرندے کا واقعہ نقل کیا جاتا ہے جس میں ہمارے آج کے لئے بہت بڑا سبق ہے۔ ابابیل نے چھت کی لکڑی میں گھونسلا بنایا۔ گھونسلا مٹی کا تھا۔ نر اور مادہ دونوں تھوڑی تھوڑی گیلی مٹی اپنی چونچ میں لائیں اور اس سے گھونسلے کی تعمیر کر نیں۔ لگاتار محنت کے بعد چند دن میں گھونسلا تیار ہو گیا۔ اب ابابیل نے اس کے اندر انڈا دے دیا۔ ایک روز ابابیل کا جوڑا گھونسلے پر بیٹھا ہوا تھا ، چار انڈے اور دو ابابیلیوں کا بوجھ گھونسلے کے لئے ناقابل برداشت ثابت ہوا اور وہ لکڑی سے چھوٹ کر نیچے گر پڑا۔ انڈے ٹوٹ کر بر باد ہوگئے ۔ اس کے بعد دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دونوں ابابلیں پوری چھت میں چاروں طرف اُڑ رہی ہیں۔ وہ چھت کی لکڑیوں میں اپنے اگلے گھونسلے کے لئے زیادہ محفوظ جگہ تلاش کر رہی تھیں۔ بالآخر انھوں نے اپنے لئے ایک ایسی جگہ پالی جو غیر ہموار ہونے کی وجہ سے گھونسلے کو زیادہ سنبھال سکتی تھی۔ پہلی بار ابابیلوں نے خالی مٹی کا گھونسلا بنایا تھا۔ اب دوسری بار انھوں نے جو مٹی لانی شروع کی اس میں گھاس ملی ہوئی تھی۔ پہلے تجربہ کے بعد انھوں نے صاف گارے کو ناکافی پایا تو انھوں نے گھاس ملے ہوئے گارے سے گھونسلا بنانا شروع کیا۔ گویا پہلے اگر خالی مٹی تھی تو اب آہن بستہ (Reinforced) مٹی گھونسلے کے لئے منتخب کی گئی۔ نتیجہ ظاہرہے۔ دوسرا گھونسلا زیادہ مضبوط اور جما ہوا تھا۔ وہ اپنی جگہ پر قائم ہو گیا اور اس میں جو انڈے دئے گئے وہ محفوظ ر ہے یہاں تک کہ ان میں بچے نکل آئے۔ بچے اپنی ماں کے ساتھ اُڑ کر فضا میں غائب ہوگئے۔ یہ واقعہ خورشید احمد بسمل صاحب (پیدائش ۱۹۷۴ء) کے اپنے مکان کا ہے جو تھنہ منڈی (راجوری) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے ۱۹ ستمبر ۱۹۷۹ء کو اپنا مذکورہ کمرہ دکھایا اور مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا — جانور کی کوشش اگر پہلی بار ناکام ہو جائے تو دوسری کوشش سے پہلے وہ معلوم کرتا ہے کہ اس کے عمل میں کون سی کمی تھی جس نے اس کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا۔ اور پھر زیادہ کامل منصوبہ کے تحت دوسری تعمیر کرتا ہے۔ مگر ہمارا " آشیانہ “ گرتا رہتا ہے اور کبھی ہم کو احساس نہیں ہوتا کہ اپنی کمی کو معلوم کر کے زیادہ مستحکم تعمیر کا منصوبہ بنائیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page