بہتر منصوبہ بندی سے
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
بہتر منصوبہ بندی سے ایڈمرل ایس۔ این کوہلی (ہندوستانی بحریہ کے سابق چیف) نے نئی دہلی کی ایک تقریر میں کہا کہ کامیابی تمام تر ایک ذہنی چیز ہے۔ اگر آپ کے اندر ارادہ ہے تو آپ اپنے مقصد کی تکمیل کے راستے پالیں گے۔ اور اگر ارادہ نہیں ہے تو آپ یہ کہہ کر بیٹھ جائیں گے کہ "یہ نہیں ہوسکتا"۔ انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہند۔ پاک جنگ (دسمبر ۱۹۷۱ء) میں ہندوستانی بحریہ کے پاس جو جنگی جہاز تھے وہ بنیادی طور پر دفاعی کارکردگی (Defensive Role) کے لئے بنائے گئے تھے۔ مگر انھیں جہازوں کو ہم نے اقدامی کارروائی کے لئے استعمال کیا۔ ہم نے کراچی بندر گاہ پر حملہ کیا اور اس میں اتنی شان دار کامیابی حاصل کی کہ فریق ثانی حیران ہو کر رہ گیا۔ اس کامیابی کی وجہ یہ نہ تھی کہ ہم بہتر سازو سامان سے آراستہ تھے۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ دستیاب سازو سامان کو ہوشیاری کے ساتھ استعمال کیا گیا: only that the available equipment was intelligently used ایڈمرل کوہلی نے جو اصول بتایا وہی اصول فرد کے لئے بھی ہے اور وہی قوم کے لئے بھی۔ کامیابی کا راز ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کے اندر اپنے مقصد کے حصول کا پختہ ارادہ ہوا اور اس کے بعد وہ یہ کرے کہ اس کے پاس جو وسائل موجود ہیں ان کو پوری احتیاط اور ہوشیاری کے ساتھ اپنے مقصد کو بروئے کار لانے میں لگادے۔ انسان کی ناکامی کا راز بیشتر حالات میں یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس وسائل نہ تھے بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تمکن وسائل کو صحیح طور پر استعمال نہ کر سکا۔ دیہات میں ایک صاحب نے پختہ گھر بنانے کا ارادہ کیا۔ ان کے وسائل محدود تھے۔ مگر انھوں نے اپنے تعمیری منصوبہ میں اس کا لحاظ نہیں کیا۔ انھوں نے پورے مکان کی نہایت گہری بنیاد کھدوائی، اتنی گہری جیسے کہ وہ قلعہ تیار کرنے جا رہے ہوں۔ ایک شخص نے دیکھ کر کہا: مجھے امید نہیں کہ ان کا گھر مکمل ہوسکے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کی بیشتر اینٹ اور مسالا لا بنیاد میں کھپ گیا اور اوپر کی تعمیر کے لئے ان کے پاس بہت کم سامان رہ گیا۔ بمشکل دیواریں کھڑی ہوسکیں اور ان پر چھت نہ ڈالی جاسکی۔ صرف ایک کمرہ پر کسی طرح چھت ڈال کر انھوں نے اپنے رہنے کا انتظام کیا ۔ غیر ضروری طور پر گہری بنیادوں میں اگر وہ اینٹ اور مسالہ ضائع نہ کرتے تو ان کے پاس اتنا سامان تھا کہ مکان پوری طرح مکمل ہو جاتا۔ مگر غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے ان کا مکان زمین کے اندر تو پورا بن گیا۔ مگر زمین کے اوپر صرف ادھورا ڈھانچہ کھڑا ہو کر رہ گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader