Urdu book · راہیں بند نہیں

ایک کے بعد دوسرا

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک کے بعد دوسرا مسافر اسٹیشن پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس کی ٹرین جاچکی ہے۔ اس کی گھڑی صحیح نہ تھی اس لئے وہ دس منٹ لیٹ ہو گیا۔ اتنی دیر میں ٹرین آکر چلی گئی۔"بابو جی ، فکر نہ کیجئے، "قلی نے کہا " دو گھنٹے بعد ایک اور گاڑی آرہی ہے، اس سے آپ چلے جائیں۔ اتنی دیر پلیٹ فارم پر آرام کر لیجئے ۔" مسافر نے قلی کا مشورہ مان لیا اور دو گھنٹہ انتظار کے بعد اگلی ٹرین پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گیا ۔ ہر مسافر جانتا ہے کہ ایک ٹرین چھوٹ جائے تو جلد ہی بعد دوسری ٹرین مل جاتی ہے جس سے وہ اپنا سفر جاری رکھ سکے۔ یہ پلیٹ فارم کا سبق ہے۔ مگر اکثر لوگ اس معلوم سبق کو اس وقت بھول جاتے ہیں جب کہ زندگی کی دوڑ میں ایک موقع ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہو۔ پہلی بار ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد وہ مایوس ہو جاتے ہیں یا احتجاج و فریاد کے مشغلہ میں لگ جاتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ اپنے مقصد کے لئے نیا منصوبہ بنائیں ، وہ " اگلی ٹرین " سے چل کر اپنی منزل پر پہنچ جائیں ۔ ایک شخص جس سے آپ کی مخالفت ہو گئی ہو اور شکر اُو کا طریقہ جس کو " درست " کرنے میں ناکام ثابت ہوا ہو، آپ اس کے بارے میں اپنا رویہ بدل دیجئے ۔ اس کو نرمی کے طریقہ سے متاثر کرنے کی کوشش کیجئے ۔ عین ممکن ہے کہ پرانے طریقے سے جس کو آپ کا دشمن بنارکھا تھا، نئے طریقہ کے بعد وہ آپ کا ایک کار آمد دوست ثابت ہو۔ آپ کہیں ملازم ہیں اور وہاں آپ کی ملازمت ختم کر دی جاتی ہے۔ آپ اس کے پیچھے نہ پڑے بلکہ دوسرے کسی میدان میں اپنے لئے ذریعہ معاش تلاش کرنے کی کوشش کیجئے ۔ ہو سکتا ہے کہ نیا کام آپ کے لئے پہلے سے زیادہ نفع بخش ثابت ہو۔ کوئی آپ کا حق نہیں دیتا۔ اس سے آپ کی لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔ سالوں گزر جاتے ہیں اور آپ اپنے حقوق کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ آپ اس کا خیال چھوڑ دیجئے اور اپنی محنت پر بھروسہ کیجئے۔ بہت ممکن ہے کہ اپنی محنت کو کام میں لاکر آپ خود وہ چیز حاصل کر لیں جس کو آپ دوسروں سے مانگ کر پانا چاہتے تھے ۔ زندگی کے بیشتر مسائل تنگ نظری کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر آدمی اپنے ذہن میں وسعت پیدا کرلے تو اس کو معلوم ہو کہ یہاں سفر کے لئے ایک سے زیادہ "گاڑیاں" موجود ہیں۔ جو چیز وہ مقابلہ آرائی کے ذریعہ حاصل نہ کر سکا اس کو وہ باہمی جوڑ کے ذریعہ حاصل کر سکتا تھا۔ جہاں حقوق طلبی کا طریقہ مقصد تک پہنچانے میں ناکام رہا وہاں وہ محنت کا طریقہ اختیار کر کے اپنی منزل تک پہنچ سکتا تھا۔ جن لوگوں کی باتوں پر مشتعل ہو کر وہ ان پر قابو نہ پاسکا، وہ ان کی باتوں پر صبر کر کے انھیں جیت سکتا تھا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page