Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

توجیہہ یا بددیانتی دہلی کے انگریزی اخبار پائیر (۱۷ستمبر ۱۹۹۹) میں صفحہ اول پر ایک رپورٹ چھپی۔ اس کے مطابق، ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر وی این نرائنن (V. N. Narayanan) کا ایک مضمون ہندوستان ٹائمز کے کالم میوزنکس (Musings) میں چھپا، وہ ایک ادبی سرقہ (Plagiarism) تھا۔ یہ ایک مغربی مصنف برائن ایپل یارڈ (Bryan Appleyard) کا مضمون تھا جس کو مسٹر نرائنن نے اپنے نام کے تحت لفظ بلفظ (verbatim) شائع کر دیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد جب اس ادبی سرقہ کا چرچا ہوا تو مسٹر نرائنن نے ہندوستان ٹائمز کی ادارت سے ضمیر کی بنیاد (conscience ground) پر استعفیٰ دے دیا۔ تاہم انھوں نے اپنے اس فعل کی توجیہہ کرتے ہوئے یہ کہا کہ : میں خیالات کا ناقل ہوں اور جب میں کسی خیال کو کسی سے لفظ بلفظ لیتا ہوں تو میں ذاتی طور پر اس آدمی کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہوتا ہوں۔ میں مصنف کو اپنی ذات میں شامل کر لیتا ہوں۔ جب ایک خیال میڈیا میں آجائے تو وہ عوامی ملکیت بن جاتا ہے: I am a carrier of ideas and when I take an idea verbatim from someone, I am personally paying homage to the person who has expressed it. I personalise the author, I get into the person. Once an idea is expressed in the media it is public property. یہ بلاشبہ ایک جھوٹی توجیہہ ہے۔ اس دنیا میں غلطی کرنا صرف غلطی ہے۔ مگر غلطی کے بعد اس کی جھوٹی توجیہہ پیش کرنا بددیانتی ۔ غلطی قابل معافی ہو سکتی ہے مگر بددیانتی (dishonesty) ہر گز قابل معافی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page