Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

نقصان کو برداشت کر لو تا کہ تمہیں بڑے نقصان کو برداشت نہ کرنا پڑے۔ ایک بڑے شہر کے ریلوے پلیٹ فارم پر دو تعلیم یافتہ آدمی آگے پیچھے چل رہے تھے۔ پیچھے والے مسافر کے ہاتھ میں ایک بڑا بیگ تھا۔ اُس نے تیزی سے آگے بڑھنا چاہا۔ اس کوشش میں اُس کا بیگ اگلے آدمی سے ٹکرا گیا۔ اگلا آدمی اچانک پلیٹ فارم پر گر پڑا۔ اس کے بعد جو ہوا وہ صرف یہ تھا کہ پیچھے والے نے معذرت کے انداز میں کہا کہ ساری (sorry)۔ اس کے بعد آگے والے نے نرمی کے ساتھ کہا کہ اوکے (okay) اور پھر دونوں خاموشی کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ اس کے برعکس اگر یہ دونوں مسافر جاہل اور بے شعور ہوتے تو دونوں غصہ ہو جاتے۔ ایک کہتا کہ تم اندھے ہو۔ دوسرا کہتا کہ تم پاگل ہو۔ اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے لڑ جاتے، خواہ اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہو کہ دونوں کی ٹرین چھوٹ جائے، اور وہ اپنی منزل پر پہنچنے کے بجائے اسپتال میں داخل کر دیئے جائیں۔ اصلاح کا حقیقی طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ خرابی کی جڑ کہاں ہے۔ اس قسم کے تمام جھگڑوں کی جڑ جہالت ہے۔ اس لیے اس وقت کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں فرقوں میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے ۔ پورے ملک کو مکمل طور پر تعلیم یافتہ بنا دیا جائے۔ یہی مسئلے کی اصل جڑ ہے اور اس جڑ کو ختم کر کے فساد کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ ایک حالیہ سروے میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ ریاست کیرلا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کیرلا میں جھگڑے اور فساد جیسے واقعات پیش نہیں آتے۔ اسی ملکی تجربہ میں مسئلہ کا حل چھپا ہوا ہے لوگوں کو تعلیم یافتہ بنائیے، اور اس کے بعد فرقہ وارانہ جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ جارج برناڈ شاہ نے کہا تھا کہ جس آدمی کے پاس بھلا دینے کے لیے کچھ نہیں وہی سب سے زیادہ غیر تعلیم یافتہ انسان ہے۔ مستقبل کی تعمیر صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ پچھلی باتوں کو بھلا دیا جائے، اور بھلانے کی یہ حکمت صرف وہی لوگ جانتے ہیں جن کو ان کی تعلیم نے باشعور بنا دیا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page