قدرتی ڈھال
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ ہر ایک کے لئے کامیاب زندگی کا عمومی فارمولا یہ ہے کہ تم ہمیشہ انسان دوست بن کر رہو۔ Be always insan friendly. دوسروں کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھنے کا فائدہ یہ ہے کہ ہر ایک آپ کے لئے مددگار (cooperative) بن جاتا ہے اور جب پورا سماج آپ کے لئے مددگار بن جائے تو فطری طور پر یہ ہوگا کہ آپ کا ہر کام آسانی کے ساتھ ہونے لگے گا۔ یہ احساس آپ کے اندر خود اعتمادی پیدا کرے گا کہ آپ جو کام بھی کریں اس میں دوسروں کی طرف سے آپ کے لئے کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ دوستانہ رویہ کا کوئی محدود مفہوم نہیں۔ کسی سے میٹھی بات بولنا بھی دوستانہ رویہ ہے۔ راستہ سے رکاوٹ ہٹا دینا بھی دوستانہ رویہ ہے۔ کسی کو ایک اچھا مشورہ دینا بھی دوستانہ رویہ ہے۔ کسی کو اچھے الفاظ میں یاد کرنا بھی دوستانہ رویہ ہے۔ کسی کے خلاف اپنے دل میں برا خیال نہ رکھنا بھی دوستانہ رویہ ہے، کسی سے شکایت کے باوجود دل میں تلخی نہ رکھنا بھی دوستانہ رویہ ہے۔ خیر خواہی کے جذبہ کے تحت کسی کے لئے دعا کرنا بھی دوستانہ رویہ ہے۔ ضرورت کے وقت کسی کے کام آنا بھی دوستانہ رویہ ہے، وغیرہ۔ کسی کو دکھ نہ پہنچائیے، آپ کو بھی کسی سے دکھ کا تجربہ نہیں ہوگا۔ ہر ایک کے لئے نفع بخش بن جائیے، آپ کو بھی ہر ایک سے نفع ملنا شروع ہو جائے گا۔ تعلیم کا مقصد ملازمت نہیں، تعلیم کا مقصد لوگوں کو باشعور بنانا ہے۔ یعنی ایسا انسان جو معاملات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ جانے، جو حالات کا تجزیہ کر کے صحیح نتیجہ تک پہنچ سکتا ہو۔ باشعور انسان کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ جذباتی اقدام نہ کرے ۔ وہ صحیح اور غلط اور ممکن اور ناممکن کے درمیان فرق کر سکے۔ ایسا انسان اس قابل ہوتا ہے کہ وہ استحسالی لیڈروں کے بہکاوے میں نہ آئے۔ وہ خود اپنی عقل کے تحت درست فیصلہ کرے ۔ ایسا ہی انسان وہ انسان ہے جس کو حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ انسان کہا جا سکے ۔ اسکول اور میڈیا دونوں کا کام یہ ہے کہ وہ ایسے انسان پیدا کرنے کی کوشش کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader