Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

قناعت کامیابی کا راز ایک عوامی مثل ہے۔ یہ مثل زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتاتی ہے۔ اس مثل کے الفاظ یہ ہیں ’’آدھی چھوڑ کے پوری دھاوے، پوری ملے نہ آدھی پاوے‘‘۔ اصل یہ ہے کہ انسان بیشتر حالات میں اپنی خواہشات اور اپنی امنگوں (ambitions) کے تحت سوچتا ہے۔ اس بنا پر اکثر وہ ایسے اقدامات کر بیٹھتا ہے جو حقیقی حالات کے اعتبار سے اس کے لئے قابل حصول نہیں ہوتے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کا عمل انجام کے اعتبار سے مکمل ناکامی پر ختم ہوتا ہے، وہ ناممکن کو حاصل کرنے کی کوشش میں ممکن کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں اکثر مشہور مسلم رہنماؤں کی کہانی یہی ہے۔ انہوں نے حقائق کی رعایت کئے بغیر محض اپنی خواہشوں اور امنگوں کے تحت بڑی بڑی چھلانگ لگادی، اس کا نتیجہ ملت کے حصہ میں تباہی کے سوا کچھ اور نہ آیا۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے چند مثالیں لیجئے۔ ۱۔ سردار شوکت حیات خاں مشہور پاکستانی لیڈر ہیں۔ وہ متحدہ پنجاب کے سابق وزیر اعظم مرحوم سر سکندر حیات خان کے صاحبزادے ہیں۔ سردار شوکت حیات خان نے اپنے کیریئر کا آغاز دوسری جنگ عظیم میں فوجی افسر کی حیثیت سے کیا۔ ۱۹۴۳ میں مسلم لیگ کی سیاست میں سر گرم طور پر شامل ہو گئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد وہ پنجاب کے وزیر بنے اور وہاں کے دوسرے بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ سردار شوکت حیات خاں نے اپنی زندگی کے حالات پر ایک کتاب انگریزی زبان میں لکھی ہے جس کا نام (دی نیشن ڈیٹ لوسٹ اُٹس سول)(The Nation that lost its soul) ہے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ (گم گشتہ قوم) دسمبر ۱۹۹۵ء میں پاکستان سے چھپا ہے۔ کتاب کا یہ اردو ایڈیشن ۴۱۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کے ناشر جنگ پبلشرز لا ہور ہیں۔ اس کتاب کے ایک باب کا عنوان ’’لیاقت علی خاں‘‘ ہے جو پاکستان کے پہلے وزیراعظم تھے۔ اس باب میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page