Urdu book · رہنماے حیات

قدرتی ڈھال

Urdu book, p. 121

By Maulana Wahiduddin Khan

کشمیر کی پاکستان کے ساتھ اہمیت سے وہ قطعی واقف نہیں تھے۔ چنانچہ احتجاج کے طور پر میں نے کشمیر آپریشن کی نگرانی سے استعفیٰ دے دیا‘ (صفحہ ۲۳۱۔ ۲۳۲) سردار شوکت حیات خاں کا یہ بیان اس درد ناک حقیقت کی ایک واضح مثال ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈرز کس طرح مذکورہ مثل کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ ممکن اور ناممکن کے فرق کو سمجھ نہ سکے۔ وہ نہ ملنے والی چیز کو پانے کے لئے دوڑے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ملنے والی چیز بھی ان سے کھوئی گئی اور نہ ملنے والی چیز تو سرے سے ملنے والی ہی نہ تھی۔ ۲۔ اب اس نوعیت کی ایک اور مثال لیجئے۔ اس مثال کا تعلق ۱۹۳۷ء سے پہلے کے دور سے ہے جب کہ برصغیر ہند میں انگریزوں کا سیاسی اقتدار قائم تھا۔ اس مثال کو اردو ہفت روزہ الجمعیتۃ سے لے کر یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ جمیعتہ علماء ہند کے اجلاس امروہہ (۳۔۵ مئی ۱۹۳۰ء) سے کچھ روز قبل وائسرائے ہند کی کونسل کے ایک ذمہ دار ممبر سر میاں فضل حسین مرحوم نے سبحان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلوی کو بلا کر یہ پیش کش کی کہ آپ جمعیتہ علماء کے اجلاس امروہہ میں کانگریس کے ساتھ اشتراکِ عمل کی تجویز پاس نہ ہونے دیں۔ میں حکومت برطانیہ سے مقبرہ صفدر جنگ اور اس سے ملحقہ جائیداد بمعہ اراضی جمعیتہ علماء ہند کے علمی کاموں کے لئے دلوا دوں گا۔ حضرت مولانا نے اپنے مخصوص مزاحیہ انداز میں فرمایا ’’میاں صاحب! تمام علماء کرام و زعماء عظام مجھے بے وقوف نہیں بنائیں گے کہ ہم پورے ملک کو حاصل کرنے کی تجویز پاس کر رہے ہیں اور تم صرف ایک مقبرہ وہ بھی مسلمانوں کی وقف ملکیت پر فیصلہ کر رہے ہو۔ مولانا کے جواب سے میاں صاحب موصوف کو بہت مایوسی ہوئی۔ یہ واقعہ حضرت مولانا نے راقم الحروف سے خود بیان فرمایا تھا۔ (جمعیتہ علماء ہند کا پچاس سالہ عہد، از شیخ عبد الحق پراچہ دہلوی ناظم اعلیٰ جمعیتہ علماء صوبہ دہلی، مطبوعہ الجمعيتۃ ویکلی، دہلی، ۲ جنوری ۱۹۷۰ء، صفحہ ۸) ۱۹۳۰ء کے اس واقعہ کو اب ۵۷ سال کے بعد کے حالات کی روشنی میں دیکھئے تو معلوم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page