قدرتی ڈھال
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
ذہن سے نکالنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر عورت اور مرد دوسروں کے بارے میں شکایتوں اور تلخیوں میں جیتے ہیں۔ ہر ایک کسی نہ کسی کے خلاف منفی نفسیات کا شکار رہتا ہے۔ مگر عین اسی وقت وہی مرد اور عورت اپنے بیٹا اور اپنی بیٹی کے لیے ہمیشہ مثبت احساسات کا نمونہ بنے رہتے ہیں۔ حالاں کہ ہر مرد و عورت کو اپنے اولاد سے بھی اسی طرح شکایت کے تجربے ہوتے ہیں جس طرح دوسروں سے ہوتے ہیں۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ شکایتوں کے باوجود لوگ اپنی اولاد کے معاملہ میں ہمیشہ معتدل بنے رہتے ہیں۔ جب کہ یہی لوگ دوسروں کے بارہ میں معمولی شکایتوں کو لے کر اُس کے خلاف ہمیشہ کے لیے نفرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ لوگ ان دونوں کے معاملہ میں دو الگ الگ انداز اختیار کرتے ہیں۔ اُن کو جب اپنی اولاد کی طرف سے شکایت کا تجربہ ہوتا ہے تو اُسی وقت وہ کوئی نہ کوئی تو جیہہ کر کے اُس کو ختم کر دیتے ہیں۔ اپنی اولاد کے خلاف شکایت کو وہ اپنے ذہن سے فوراً نکال دیتے ہیں۔ اس کے برعکس جب اُن کو دوسروں سے کوئی شکایت پیش آجاۓ تو وہ اُس کو اپنے ذہن میں بٹھا لیتے ہیں۔ وہ اٗس کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ وہ لوگوں سے اس کا چرچا کرتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی بہانے ہر روز اُس کو اپنے ذہن میں تازہ کرتے رہتے ہیں۔ اسی فرق کی بنا پر ایسا ہے کہ اپنی اولاد کے خلاف شکایتیں اُن کے وجود کا حصہ نہیں بنتیں، وہ پیدا ہوتے ہی فوراً ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس دوسروں کے خلاف شکایتیں ہمیشہ کے لیے ان کے وجود کا حصہ بن جاتی ہیں، وہ کسی طرح ختم نہیں ہوتیں۔ یہ ذاتی تجربہ ہر آدمی کو بتاتا ہے کہ اُس کو دوسروں کے معاملہ میں کیسا ہونا چاہیے۔ اُس کو ویساہی ہونا چاہیے جیسا کہ وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کے معاملہ میں ہے۔ جب بھی کسی کے خلاف کوئی منفی احساس پیدا ہو تو وہ فوراً ہی اس کو اپنے ذہن سے نکال دے۔ کسی بھی حال میں وہ اُس کو اپنے ذہن کا مستقل حصہ نہ بننے دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader