مخلص، غیر مخلص
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
مخلص، غیر مخلص دو لکڑی بظاہر ایک سائز کی ہیں۔ دونوں پر ایک ہی قسم کا رنگ لگا ہوا ہے۔ مگر ان میں سے ایک اندر سے دیمک زدہ ہے، اور دوسری پوری طرح پختہ اور سالم ہے۔ اوپر سے دیکھنے میں دونوں بظاہر یکساں معلوم ہوں گی۔ لیکن استعمال کے اعتبار سے دونوں ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہوں گی۔ دیمک زدہ لکڑی پر جب کوئی بوجھ رکھا جائے گا تو وہ فوراً ٹوٹ جائے گی۔ اس کے برعکس پختہ لکڑی ہر بوجھ اٹھائے گی، وہ ہر استعمال میں مضبوط اور قابل اعتماد ثابت ہوگی۔ اس مثال سے مخلص انسان اور غیر مخلص انسان کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ مخلص انسان ہر آزمائش میں پختہ لکڑی ہی ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر مخلص انسان پر جب کسی آزمائش کا وقت آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک دیمک زدہ لکڑی تھا۔ وہ باہر سے کچھ تھا اور اندر سے کچھ۔ مخلص انسان جو لفظ بولتا ہے وہ عمل کے وقت ٹھیک ویسا ہی کردار ادا کرتا ہے۔ وہ جب کسی سے وعدہ کرتا ہے تو ٹھیک اپنے وعدہ کے مطابق اس کی تعمیل کرتا ہے۔ اس کو جب کوئی امانت سونپی جاتی ہے تو تجربہ کے وقت وہ پوری طرح امین ثابت ہوتا ہے۔ اس کے اوپر جب کسی کا حق آتا ہے تو وہ کسی عذر کے بغیر صاحب حق کو اسے ادا کر دیتا ہے۔ خواہش اور انانیت اس کو سرکش نہیں بناتی۔ دنیوی مفادات اس کو حق کے راستہ سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ غیر مخلص انسان کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ اپنے کہے ہوئے الفاظ کو عمل کے وقت یاد نہیں رکھتا۔ وہ زور و شور کے ساتھ لوگوں سے وعدہ کرتا ہے مگر وہ اپنے وعدہ کو کبھی پورا نہیں کرتا۔ اس کو جب کسی چیز کا امانت دار بنایا جائے تو وہ پہلے ہی موقع پر خیانت پر اتر آتا ہے۔ مخلص اور غیر مخلص کا یہ فرق کوئی سادہ فرق نہیں۔ یہ وہ اہم ترین فرق ہے جو انسان کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔ موجودہ دنیا کی تمام حقیقی کامیابی صرف اس انسان کے لئے ہیں جو فی الواقع ایک مخلص انسان ہو۔ یہی وہ انسان ہے جو موت کے بعد کی زندگی میں ابدی سعادتوں سے نوازا جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader