Urdu book · رہنماے حیات

رہنماے حیات

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

دوم قسم کے آدمی انسان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو اصول کے بارے میں حساس ہو۔ دوسرا وہ جس کی حساسیت صرف اپنی خواہشات اور مفادات کے بارے میں جاگتی ہو۔ پہلی قسم کے انسان ہی حقیقی معنوں میں انسان ہیں اور دوسری قسم کے لوگ انسان نما حیوان ہیں۔ ان کے جینے کی سطح اور حیوانوں کے جینے کی سطح میں کوئی فرق نہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو ہر حال میں حق کا اعتراف کرے، خواہ وہ اس کے موافق ہو یا اس کے خلاف۔ وہ اپنے کہے ہوئے وعدہ سے کبھی نہ پھرے، وہ کسی حال میں سچائی کو نہ چھوڑے، خواہ وہ اس کی مصلحتوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اس کا کردار اصول انسانیت کے تابع ہو نہ کہ حالات اور مواقع کے تابع۔ وہ وہی کرے جو اسے کرنا چاہئے، نہ کہ وہ جس کو کرنے کے لئے اس کا جی چاہتا ہو۔ دوسرا انسان وہ ہے جو اپنے آپ کو کسی اصول یا معیار کا پابند نہ سمجھے۔ حالات کا دباؤ ہو تو حق پرست بن جائے اور جہاں دباؤ نہ ہو وہاں وہ حق کو نظر انداز کر دے۔ وعدہ پورا کرنے میں فائدہ نظر آئے تو وعدہ پورا کرے اور جہاں فائدہ کا محرک نہ ہو وہاں وعدہ سے بے پروا ہو جائے۔ ایک ہی قسم کے معاملہ میں اس کا رویہ ایک شخص کے ساتھ کچھ ہو اور دوسرے شخص کے ساتھ کچھ۔ بظاہر دیکھنے میں ہر آدمی ایک ہی شکل کا دکھائی دیتا ہے مگر تجربہ بتاتا ہے کہ یکساں شکل کے اندر دو الگ انسان چھپے ہوئے تھے۔ مومن با اصول انسان کا نام ہے اور غیر مومن بے اصول انسان کا نام۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو مومن کی تعریف یہ کی جاسکتی ہے کہ وہ ایک ایسا انسان ہے جو قابل پیشین گوئی کردار (predictable character) کا حامل ہو۔ اس کی اصول پسندی کی بنا پر اس کے بارے میں پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا جاسکے کہ کن حالات میں وہ کس قسم کے رویہ کا اظہار کرے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page