Urdu book · رہنماے حیات

پختگی کیا ہے

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

ناکامی سے سبق لے کر اپنے آپ کو زیادہ صاحب بصیرت بنا لیتا ہے، اور اسی کے ساتھ زیادہ طاقتور بھی۔ پختگی کسی انسان کی نہایت اعلیٰ صفت ہے۔ پختہ (mature) کی تعریف ڈکشنری میں اس طرح کی گئی ہے ـــ ایک وجود جس کا نشوونما پوری طرح ہوا ہو، وہ اپنی ترقی کے کمال تک پہنچا ہو: A being full-grown, or fully developed. ایک درخت کی پختگی یہ ہے کہ وہ ابتدائی درجہ سے شروع ہو کر پھول اور پھل کے آخری درجہ تک پہنچ جائے، وہ ہر اعتبار سے ایک مکمل درخت بن جائے۔ اسی طرح انسان کی پختگی یہ ہے کہ وہ اپنی عقلی صلاحیت کے اعتبار سے آخری درجہ کمال تک پہنچ جائے۔ تاہم انسان کی پختگی کا تعلق صرف حیاتیات یا نفسیات سے نہیں ہے بلکہ اُس کا گہر اتعلق علم سے ہے۔ جو آدمی اپنے علم کو بڑھائے، جو تجربات سے سبق سیکھے، جو دنیا سے معرفت کا رزق لے کر اپنے ذہنی وجود کو مکمل کرے، وہ گویا پختگی کے اعلیٰ مرتبہ تک پہنچا۔ پختہ انسان صاحب بصیرت انسان ہوتا ہے۔ پختہ انسان اس حیثیت میں ہوتا ہے کہ وہ معاملات میں صحیح رائے قائم کرے۔ غیر پختہ انسان خوش فہمیوں میں جیتا ہے اور پختہ انسان حقائق میں۔ غیر پختہ انسان جذباتی فیصلہ کرتا ہے اور پختہ انسان جذبات سے اوپر اٹھ کر اپنی رائے بناتا ہے۔ غیر پختہ انسان کا اقدام جلد بازی کا اقدام ہوتا ہے اور پختہ انسان کا اقدام سوچا سمجھا ہوا اقدام۔ غیر پختہ انسان کا طریقہ لڑائی بھڑائی کا طریقہ ہوتا ہے اور پختہ انسان کا طریقہ صبر اور تحمل کا طریقہ۔ غیر پختہ انسان متشددانہ طریق کار میں یقین رکھتا ہے اور پختہ انسان پر امن طریق کار میں۔ غیر پختہ انسان اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کرتا۔ وہ اپنی غلطی سے کوئی سبق نہیں سیکھتا۔ اس کے برعکس پختہ انسان جب کوئی غلطی کرتا ہے تو فوراً ہی وہ کھلے دل سے اس کا اعتراف کر لیتا ہے۔ غلطی کا یہ اعتراف اُس کے لیے اس بات کی ضمانت بن جاتا ہے کہ وہ ہر تجربہ سے سبق سیکھے۔ وہ اپنی شخصیت کو بہتر سے بہتر بناتا رہے۔ اُس کا ذہنی ارتقاء کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل جاری رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page