دو لفظ
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
دو لفظ اگر موت کا فرشتہ آئے اور کہے کہ ہم تمہاری روح قبض کرنے کے لیے آئے ہیں۔ اب تم کو صرف دو لفظ بولنے کا مزید موقع ہے۔ جو بھی دو لفظ تم کو کہنا ہے، کہہ دو، اس کے بعد تم کو اس دنیا سے اٹھا لیا جائے گا۔ اگر ایسا ہو تو میں فوراً کہوں گا ۔ خود احتسابی۔ خود احتسابی (self-criticism) میرے علم اور تجربہ کے مطابق، دانائی کا سب سے بڑا کلید ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ مادہ ہو کہ وہ اپنے اوپر تنقید کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس نظر سے دیکھے جس نظر سے اس کا خارجی محتسب اس کو دیکھتا ہے، وہ یقینی طور پر عارف بن جائے گا۔ وہ چیزوں کو ویسا کا ویسا (as it is) دیکھنے لگے گا۔ اور جو شخص اپنے اندر یہ صفت پیدا کرلے، اس نے دنیا میں بھی کامیابی کا راز پا لیا اور آخرت میں بھی کامیابی کا راز اس کو مل گیا۔ جو شخص اپنا احتساب کرے، دوسرا آدمی اس پر تنقید کرے تو وہ اس پر اشتعال نہ ہو بلکہ اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرے، وہ بلاشبہ ایک عظیم انسان ہے۔ ایسا آدمی اس سے بچ جائے گا کہ وہ جھوٹے برم میں مبتلا ہو۔ وہ غیر حقیقی چیزوں کو حقیقی چیز سمجھے۔ وہ اپنی غلطیوں کو دہرانے سے محفوظ رہے گا۔ وہ فریب نفس کی بیماری میں مبتلا نہ ہوگا۔ خود احتسابی اس بات کا اعتراف ہے کہ میں انسان ہوں، میں خدا نہیں ہوں ۔ وہ اس بات کا اعتراف ہے کہ حقیقت وہ ہے جو ہے، نہ کہ وہ جس کو میں بطور خود حقیقت فرض کر لوں۔ خود احتسابی کی صفت آدمی کو انسان اصلی (man cut to size) بناتی ہے۔ وہ آدمی کو سچی معرفت تک پہنچانے والی ہے۔ جس آدمی کے اندر خود احتسابی کا مادہ نہ ہو، وہ لازمی طور پر جمود اور شہد او میں مبتلا ہو جائے گا۔ اس کے برعکس خود احتسابی کا مادہ اس بات کا ضامن کہ آدمی مسلسل آگے بڑھتا رہے، اس کی ذہنی ترقی کا سفر کبھی ختم نہ ہو۔ خود احتسابی آدمی کو کامل انسان بناتی ہے۔ اور جس آدمی کے اندر خود احتسابی نہ ہو وہ ناقص انسان ہو کر رہ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader