ترقی کا سیلاب
Urdu book, p. 157
By Maulana Wahiduddin Khan
ترقی کا سیلاب ۱۰ اکتوبر ۲۰۰۴ کو پاکستان کے ایک مسلم دانشور سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی تقسیم نے پاکستان کے مسلمانوں کو خوشحال بنا دیا۔ مگر انڈیا کے مسلمان غربی میں مبتلا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک غلط بات ہے۔ مزید یہ کہ وہ ایک خلاف زمانہ بات (anachronic statement) ہے۔ موجودہ زمانہ میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ ایسا کیجئے کہ آپ دہلی کے مختلف علاقوں میں ایک سو مسلم خاندانوں کا سروے کیجئے۔ ان سے آپ یہ پوچھیئے کہ ۱۹۷۲ میں ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا تھی اور آج ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا ہے۔ اسی طرح آپ لاہور کے مختلف علاقوں سے ایک سو مسلم خاندانوں کو لیجئے اور ان سے آپ یہی سوال کیجئے کہ ۱۹۷۲ میں ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا تھی اور آج ان کے خاندان کی معاشی حالت کیا ہے۔ اگر آپ اس قسم کا سروے کریں تو آپ پائیں گے کہ دونوں جگہوں کے مسلمانوں نے تقریباً یکساں طور پر معاشی ترقی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جن مسلم رہنماؤں نے معاشی ترقی کو منقسم ہندوستان اور غیر منقسم ہندوستان کا ظاہر سمجھادہ ایک مہلک غلطی کا شکار ہوئے ۔ اس غلطی کا سبب یہ تھا کہ وہ زمانی تبدیلی سے بے خبر تھے۔ اصل یہ ہے کہ ۱۹۷۲ سے پہلے ہندوستان زرعی دور میں تھا۔ یہ مبنی بر زمین اقتصادیات (land-based economy) کا زمانہ تھا۔ اس زمانہ میں پیسہ صرف لینڈ لارڈ کے پاس ہوتا تھا۔ بقیہ لوگ مجبور تھے کہ وہ غربی کی حالت میں زندگی گزاریں۔ مگر ۱۹۷۲ کے بعد بقیہ دنیا کی طرح سارے برصغیر ہند میں صنعتی انقلاب شروع ہو گیا۔ صنعتی انقلاب کے ساتھ ہر جگہ اقتصادی انفجار (economic explosion) آگیا۔ اب یہ نا ممکن ہو گیا کہ پیسہ صرف ایک طبقہ کے پاس ہو اور دوسرے طبقات اس سے محروم رہیں ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے سوکھے کا زمانہ ہو تو پانی صرف اس شخص کے پاس ہوگا جس کے پاس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader