Urdu book · رہنماے حیات

حقیقت پسندانہ مزاج

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت پسندانہ مزاج زندگی میں کامیابی کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز حقیقت پسندانہ مزاج ہے۔ محض اپنی ذاتی امنگوں کے تحت میدان میں کود پڑنا جذباتیت ہے، اور جذباتیت کسی کے لیے ناکامی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اس کے برعکس خارجی حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اقدام کرنا حقیقت پسندی ہے، اور حقیقت پسندی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ یہ اصول فرد کے لیے بھی صحیح ہے اور جماعت کے لیے بھی۔ ان دونوں قسم کے اقدامات کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ پہلا اقدام جذباتی اقدام ہے، اور دوسرا اقدام منصوبہ بند اقدام۔ منصوبہ بند اقدام کے لیے سب سے زیادہ اہمیت صبر و تحمل کی ہے۔ آدمی کی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ اُس کے اندر وہی جذبہ بھڑک اُٹھتا ہے جو اُس کو اقدام کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ مثلاً حسد، حرص، غصہ، انتقام، وغیرہ۔ اس قسم کے احساسات آدمی کو جذباتی اقدام پر ابھارتے ہیں۔ یہ ایک جذباتی طوفان کا لمحہ ہوتا ہے۔ اُس وقت جو چیز آدمی کو غلط اقدام سے بچاتی ہے وہ صبر و تحمل کی صفت ہے۔ صبر و تحمل کا یہ فائدہ ہے کہ وہ آدمی کو ہیجانی کیفیت سے بچائے۔ وہ انسان کے اندر اعتدال پیدا کر کے اس کو اس قابل بنائے کہ وہ غیر متاثر ذہن کے تحت سوچ سکے۔ وہ غیر جانب دارانہ جائزہ کے تحت اپنا فیصلہ لے سکے۔ وہ آدمی کے اقدام کو نتیجہ خیز اقدام بنائے۔ جذباتیت یہ ہے کہ آدمی اشتعال انگیزی پر اشتعل ہو جائے۔ کوئی غصہ دلائے تو وہ اُس سے انتقام لینے کے درپے ہو جائے۔ کوئی شوق اس کے اندر اُبھرے تو سوچے سمجھے بغیر وہ اس کی طرف چھلانگ لگا دے۔ اس کے برعکس حقیقت پسندی یہ ہے کہ آدمی اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہو۔ کوئی خواہش اُس کے اندر اُبھرے تو وہ ایسا نہ کرے کہ وہ حالات کو نظر انداز کر کے اپنی خواہش کو پورا کرنے کی طرف دوڑ پڑے۔ جذباتیت کا نتیجہ عجلت پسندی ہے۔ اس کے مقابلہ میں حقیقت پسندی سے یہ مزاج بنتا ہے کہ آدمی جو کام کرے وہ اس کو بھر پور جائزہ لینے کے بعد کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page