Urdu book · رہنماے حیات

تعلیمی پیغام

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلیمی پیغام جموں کشمیر میں ایک قدیم تعلیمی ادارہ ہے جس کا نام مسلم ایجوکیشن ٹرسٹ ہے۔ اس ادارہ کے تحت مسٹر خورشید بل اور ان کے ساتھیوں نے ۳۱ اکتوبر ۱۹۷۶ء کو تھنہ منڈی میں ایک اسکول قائم کیا۔ یہ اسکول ترقی کر کے اب ایک بڑا ادارہ بن گیا ہے۔ یکم نومبر ۲۰۰۴ء کو اس ادارہ کا ۲۹ واں فاؤنڈیشن ڈے منایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالی اس ادارہ کو مزید ترقی دے۔ وہ نئی نسل کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنے۔ تعلیم بلاشبہ تمام ضروری چیزوں میں سب سے زیادہ اہم چیز ہے۔ تعلیم نہ صرف دنیوی زندگی کو درست کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ فارسی شاعر کے الفاظ میں، خدا کی معرفت بھی علم کے بغیر نہیں ملتی: کہ بے علم نتواں خدا را شناخت۔ علم کے ذریعہ آدمی زندگی کا سلیقہ سیکھتا ہے۔ علم کے ذریعہ اس کو ماضی اور حال کی معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ علم کے ذریعہ وہ مواقع اور امکانات کو جانتا ہے۔ علم آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے عمل کی نتیجہ خیز منصوبہ بندی کرے۔ علم کے ذریعہ آدمی صحیح اور غلط کی پہچان حاصل کرتا ہے۔ علم کے ذریعہ آدمی جانتا ہے کہ جذباتیت اور حقیقت پسندی میں کیا فرق ہے۔ علم کے ذریعہ آدمی کو وہ چیز حاصل ہوتی ہے جس کو آرٹ آف ڈیفرنس مینجمنٹ (art of difference management) کہا جاتا ہے۔ علم آدمی کو وہ شعور دیتا ہے جس کے ذریعہ وہ اپنے سماج کا صحت مند ممبر بنے۔ علم سے آدمی کو وہ بصیرت حاصل ہوتی ہے جس کے ذریعہ وہ تخریبی اقدام اور تعمیری اقدام کے فرق کو جانے۔ علم آدمی کو یہ صلاحیت عطا کرتا ہے کہ وہ ممکن اور ناممکن میں تمیز کر سکے، وہ ناممکن کو چھوڑ کر ممکن میں اپنی طاقت کو لگائے۔ علم انسان کو مکمل انسان بناتا ہے۔ علم سے آدمی اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور خدا کو بھی۔ علم کے ذریعہ دین میں بھی ترقی حاصل ہوتی ہے اور دنیا میں بھی۔ علم انسان کو حیوانیت سے اٹھا کر حقیقی انسان کے درجہ تک پہنچاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page