ایک کے بدلہ میں دَس
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک کے بدلہ میں دس مارک ٹوین (Mark Twain) امریکا کا مشہور ناول نگار ہے۔ وہ ۱۸۳۵ میں پیدا ہوا اور ۱۹۱۰ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا ایک قول یہ ہے:۔ دینے اور لینے کا اصول دراصل ایک تدبیر کار ہے۔ یعنی ایک دوا اور دس پاؤ:۔ The principle of give and take is the principle of diplomacy— give one and take ten. دینے والا جب کسی معاملہ کو دوسرے ختم کرتا ہے تو بظاہر وہ سمجھتا ہے کہ میں نے کچھ کھو دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ شرافت کا ایک معاملہ ہوتا ہے۔ نتیجہ کے اعتبار سے اس دنیا میں اُسی کو کامیابی ملتی ہے جو شرفانہ اخلاق کا مظاہرہ کرے۔ وہ جتنا دیتا ہے اُس سے بہت زیادہ وہ آخر کار پالیدتا ہے۔ وہ اگر ایک کے بقدر دیتا ہے تو واپس ہو کر وہ اُس کو دس کے بقدر ملتا ہے۔ ایک دینا وہ ہے جو تجارتی لین دین کے تحت ہو۔ اس لین دین میں دونوں طرف ان ٹرسٹ ہوتا ہے۔ جو دیتا ہے وہ بھی ان ٹرسٹ کے لیے دیتا ہے اور جو لیتا ہے وہ بھی ان ٹرسٹ کے لیے لیتا ہے۔ اس طرح کے لین دین میں برابر کا اُصول ہے۔ یعنی جتنا دینا اتنا پانا۔ دوسرا لین دین وہ ہے جو انسانی ہمدردی کے تحت کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک شخص کسی ذاتی غرض کے بغیر دوسرے کی خدمت کرے، وہ دوسرے کو یک طرفہ طور پر کوئی عطیہ دے۔ جب کوئی شخص بے غرضانہ طور پر کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے یا کسی ذاتی مفاد کے بغیر کوئی چیز اس کو دیتا ہے تو ایسا آدمی اپنے عطیہ کے ساتھ ایک اور انتہائی قیمتی چیز شامل کرتا ہے، اور وہ سچی ہمدردی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب دوسرے کی طرف سے اُس کو جوابی صلہ دیا جاتا ہے تو دینے والا اس کو دس گنا بڑھا کر دیتا ہے، بلکہ کبھی اس سے بھی زیادہ۔ خود غرضانہ لین دین میں یہ اصول ہے کہ جتنا دو اُتنا پاؤ۔ لیکن بے غرضانہ لین دین کا اصول اس کے مقابلہ میں یہ ہے کہ۔ جتنا دو اُس سے بہت زیادہ پاؤ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader