Urdu book · رہنماے حیات

غلط سوچ کا مسئلہ

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹوئن بی نے اپنی کتاب مطالعہ تاریخ (A Study of History) میں کامیابی کے ساتھ واضح کیا ہے ۔ ۱۲ جلدوں کی اس کتاب میں اس نے بتایا ہے کہ تاریخ کی تمام بڑی بڑی تہذیبوں کو جو لوگ وجود میں لائے وہ اقلیت میں تھے۔ یہ دراصل اقلیتی گروہ ہے جو تاریخ کے تمام بڑے بڑے واقعات کے پیچھے کام کرتا ہے۔ ٹوئن بی کے مطابق ، اس کا اصول یہ ہے کہ اکثریتی گروہ کی طرف سے اقلیتی گروہ کو چیلنج پیش آتا ہے۔ یہ چیلنج اقلیتی گروہ کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اکثریتی گروہ کے مقابلہ میں زیادہ کام کرے۔ وہ اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو دوسروں سے زیادہ استعمال کرے۔ حالات کا یہ دباؤ اقلیتی گروہ کو ابھارتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہیروانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ٹوئن بی نے فطرت کے اس اصول کو تاریخ کی اکیس تہذیبوں کی عملی مثال سے ثابت کیا ہے۔ فطرت کا یہی قانون ہندستانی مسلمانوں پر صادق آتا ہے۔ ۱۹۷ سے پہلے ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ وہ اپنی سیاسی مصلحت کے تحت ملک کے چھوٹے اور بڑے گروہ کے درمیان ایک موازنہ (بیلنس) قائم کئے ہوئے تھے۔ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کو جب ہندوستان آزاد ہوا اور یہاں جمہوری دور آیا تو انگریز کا قائم کردہ موازنہ ٹوٹ گیا۔ اب مسلمانوں کی حیثیت اقلیتی گروہ کی ہوگئی اور ہندوؤں کی حیثیت اکثریتی گروہ کی۔ اس کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے لئے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے جو انگریزوں کے زمانے میں موجود نہ تھے۔ ہندستانی مسلمانوں کے لئے بظاہر یہ ایک مسئلہ تھا۔ مگر فطرت کے قانون کے مطابق وہ ایک چیلنج تھا۔ اپنے نتیجہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کی چھپی ہوئی قوتوں کو بیدار کرنے کے ہم معنی تھا۔ بیداری کا یہ عمل ابتدائی طور پر ۱۹۷ کے بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔ مگر اپنے پہلے دور میں وہ غیرشعوری حالت میں عمل کرتا رہا۔ اس کے بعد دوسرا دور آیا اور بیداری کا یہ عمل شعوری طور پر شروع ہو گیا۔ اب یہ عمل اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہر جگہ اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے دہلی میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا۔ اس کا موضوع تھا: مسلمانوں کا معاشی چھڑا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page