Urdu book · رہنماے حیات

درخت کی مثال

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

درخت کی مثال درخت خدا کی ایک انڈسٹری ہے۔ درخت کا آغاز ایک چھوٹے بیج سے ہوتا ہے۔ بیج کے اندر وہ تمام امکانات نہایت کاریگری کے ساتھ سموئے ہوتے ہیں کہ جب بھی اس کو موافق حالات ملیں وہ ایک درخت کی صورت میں اپنے کو ظاہر کرنا شروع کر دے۔ بیج کے بونے کی جگہ مٹی ہے۔ آپ بیج کو پتھر میں ڈال کر اس کے متوقع نتائج حاصل نہیں کرسکتے۔ بیج کو جب مٹی میں ڈالا جاتا ہے تو اچانک وہ پوری کائنات سے اس طرح جڑ جاتا ہے جیسے کہ ساری کائنات صرف اسی کی پرورش کے لئے بنائی گئی تھی۔ مٹی نرم ہو کر اس کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اندر اپنی جڑیں داخل کرے۔ بیکٹیریا کروڑوں کی تعداد میں اس کے جڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ فضا سے نائٹروجن الگ کر کے اس کی خوراک فراہم کریں۔ زمین کی تہہیں اپنی معدنیات اور نمکیات کو پانی میں گھول کر اس کی جڑوں کو پہنچاتی ہیں تا کہ وہ کھینچ کھنچ کر اوپر کی طرف جائے اور درخت کی نشوونما کا ذریعہ بنے۔ زمین سے لے کر سورج تک کا کائنات کا پورا کارخانہ متحرک ہو جاتا ہے تا کہ اس کے لئے مختلف موسم پیدا کرے اور گرمی اور سردی اور بارش کے حالات سے گزرارتے ہوئے اس کو ایک مکمل درخت کی صورت میں کھڑا کردے۔ یہ درخت پوری کائنات سے اس طرح ہم آہنگ ہوتا ہے کہ کہیں بھی ماحول کی دوسری چیزوں سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ وہ اگر زمین سے پانی لیتا ہے تو خود بھی زمین سے لی ہوئی رطوبت کو اپنے پتوں کے ذریعہ خارج کر کے بارش کے عمل میں معاون بنتا ہے۔ وہ اگر زمین سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے تو خود بھی اپنے پتوں اور پھولوں کو زمین پر گرا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ اگر ہوا سے کاربن ڈائی آکسائڈ لیتا ہے تو ایک اور مفید چیز آکسیجن کی صورت میں اسے لوٹا دیتا ہے۔ وہ کائنات سے الگ ہوتے ہوئے پوری کائنات سے اس طروح جڑا ہوا ہوتا ہے کہ کسی چیز سے بھی کبھی اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page