Urdu book · رہنماے حیات

با مقصد انسان کا کردار

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

با مقصد انسان قانونی حق اور منطقی انصاف سے بلند ہو کر یہ سوچتا ہے کہ میرے لیے اپنے مقصد اعلیٰ کو حاصل کرنے کا مفید طریقہ کیا ہے۔ سوچ میں اس فرق کی بنا پر عام انسان لوگوں کے ساتھ زر اور زمین کا جھگڑا کرتا رہتا ہے، کیونکہ اس کے سوا اس کا اور کوئی نشانہ حیات نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس با مقصد انسان کا نظریہ ، حضرت مسیح کے الفاظ میں یہ ہوتا ہے کہ، کوئی تمہارا کرتا لینا چاہے تو اُس کو اپنا پٹھہ بھی دے دو۔ یعنی دنیوی چیزوں کے معاملہ میں نزاع پیدا ہو تو فوراً ایک طرفہ قربانی کے ذریعہ اُس نزاع کو ختم کر دو، تاکہ مقصد کی طرف تمہارا سفر کسی خلل کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ اس طرح کے نزاعی معاملات میں عام انسان کا قول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنا حق کیوں چھوڑیں، ہم انصاف سے دست بردار کیوں ہوں۔ مگر با مقصد انسان کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ دنیوی حق کو لینے کی کوشش میں وہ ربانی حق سے محروم ہو جائے گا۔ دنیوی انصاف کو حاصل کرنے کی لڑائی میں وہ آخرت کے انصاف کی میزان میں اپنے آپ کو بے قیمت کرلے گا۔ سوچنے کا یہی فرق دونوں کے عمل میں فرق پیدا کر دیتا ہے۔ ایک، دنیا کی خاطر آخرت کو گنوادیتا ہے، اور دوسرا، آخرت کی خاطر دنیا کو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page